قومی

IITian Found Dead in His Bedroom in Hisar: حصار میں آئی آئی ٹی  گریجویٹ بیڈ روم میں مردہ حالت میں ملا، ‘آئی آئی ٹیئن بابا’  کی موت سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہا ہے

نئی دہلی:پریاگ راج میں منعقدہ مہا کمبھ کے دوران شہرت پانے والے ‘آئی آئی ٹیین بابا’ (IITian Baba) ابھے سنگھ گریوال ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ ان کی موت کی افواہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ ان کی لاش حصار کے ایک ہوٹل سے ملی ہے۔ تاہم، ان کی موت کی خبریں بے بنیاد ہیں اور پولیس نے ان کی تردید کی ہے۔حصار پولیس کے سوشل میڈیا انچارج امریندر سنگھ نے ‘آئی آئی ٹیین بابا’ کی موت سے متعلق خبروں کی تردید کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تین روز قبل پی ایل اے (PLA) علاقے میں واقع ایک گھر سے راہل جین نامی شخص کی لاش ملی تھی۔ سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں کہ بیڈ روم سے ملنے والی لاش ‘آئی آئی ٹیین بابا’ کی تھی، جو کہ سراسر جھوٹ ہے؛ متوفی راہول حصار کے ہی رہائشی تھے۔

ہریانہ کے شہر حصار سے ایک 35 سالہ آئی آئی ٹی (IIT) گریجویٹ کی موت کی خبر سامنے آئی ہے؛ سوشل میڈیا پر اس خبر کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور اس کا تعلق ‘آئی آئی ٹیئن بابا’ (IITian Baba) کی موت سے جوڑا جا رہا ہے۔ہ آئی آئی ٹی روڑکی سے تعلیم حاصل کرنے والے 35 سالہ راہل جین اتوار، 11 اکتوبر 2026 کی صبح اپنے گھر کے بیڈ روم میں مردہ پائے گئے۔ کمرے سے گیس کا سلنڈر اور کچھ دیگر سامان ملنے کے بعد پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔ ابتدائی حالات سے خودکشی کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے، موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔راہل جین حصار کے پی ایل اے علاقے میں مکان نمبر 664 میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ شہر کے معروف کپڑا کاروباری نریش جین کے بیٹے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کا تعلق نیلم سنیما سے بھی ہے۔ راہل کی موت کی خبر پھیلتے ہی اہل خانہ اور قریبی لوگوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ آئی آئی ٹی جیسے معروف ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان کی اس طرح موت ہونے سے مقامی لوگوں میں بھی واقعے کو لے کر بحث شروع ہوگئی۔

ہفتے کی رات کمرے میں سونے گئے، صبح نہیں کھلا دروازہ

اہل خانہ کے مطابق، راہل ہفتے کی رات 10 اکتوبر کو معمول کے مطابق اپنے کمرے میں سونے گئے تھے۔ ان کے والدین گھر کے دوسرے کمرے میں موجود تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت راہل کی اپنی والدہ سے بات چیت بھی ہوئی تھی۔ اس وقت ان کے رویے سے کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا واضح اشارہ نہیں ملا تھا۔اتوار کی صبح جب کافی دیر تک راہل اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے تو اہل خانہ کو تشویش ہونے لگی۔ صبح تقریباً 10 بجے تک کمرے کا دروازہ نہیں کھلا۔ گھر والوں نے آواز لگائی، لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد دروازہ کھولنے پر راہل کمرے میں بے ہوش حالت میں ملے۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کا جائزہ لے کر جانچ شروع کردی۔

کمرے سے گیس کا سلنڈر برآمد، مختلف رپورٹس میں الگ الگ دعوے

میڈیا رپورٹس کے مطابق، راہل کے کمرے سے گیس کا سلنڈر برآمد ہوا ہے۔ بعض رپورٹوں میں اسے میتھین گیس کا سلنڈر بتایا گیا ہے، جبکہ کچھ دیگر رپورٹس میں ہیلیم گیس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے سلنڈر میں موجود گیس کی صحیح شناخت کی تصدیق سائنسی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گی۔ابتدائی اطلاعات میں راہل کے منہ میں پائپ ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس میں کمرے سے ایک خط اور ویڈیو سے متعلق معلومات ملنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خط میں راہل نے اپنی موت کے لیے کسی دوسرے شخص کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ خط یا ویڈیو کی بنیاد پر ہی واقعے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس تمام دستیاب شواہد، اہل خانہ کے بیانات اور دیگر پہلوؤں کی جانچ کررہی ہے۔ موت کی اصل وجہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

آئی آئی ٹی روڑکی سے حاصل کی تھی تعلیم

راہل جین نے ملک کے معروف تعلیمی ادارے آئی آئی ٹی روڑکی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اعلیٰ تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے حصار میں ہی اپنا کام شروع کیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، راہل ایک کوچنگ سینٹر چلاتے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے یہ کام بند کردیا تھا اور دوسرے کاروبار کی تیاری کررہے تھے۔ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی اچانک موت سے خاندان اور جاننے والے صدمے میں ہیں۔ فی الحال پولیس کی جانچ جاری ہے اور موت کی وجوہات کے بارے میں حتمی تصدیق کا انتظار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: پوپ لیو چہاردہم کی سرجری کے بعد وزیر اعظم مودی نے جلد صحت یابی کی پرارتھناکی

سرجری کے دوران جانچے گئے بافتوں سے پہلے کیے گئے ٹیسٹوں کی بنیاد پر لگائے…

2 hours ago