سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمان ضیاء الرحمٰن برق۔ (فائل فوٹو)
سنبھل: اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں سرکاری زمین پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی مصطفیٰ قادری مسجد کے خلاف انتظامیہ کی بلڈوزر کارروائی دوسرے روز بھی جاری رہی۔ ہفتے کے بعد اتوار کو بھی مسجد کے باقی ماندہ حصوں کو منہدم کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں سیاسی اور سماجی سطح پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس کارروائی پر سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمان ضیاء الرحمٰن برق نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ پر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسجد کے احاطے سے ’’آئی لو محمد‘‘ تحریر والا ایک پوسٹر اور سبز رنگ کا ایک جھنڈا برآمد ہوا ہے، جس کے حوالے سے جانچ کی جا رہی ہے۔ تاہم ضیاء الرحمٰن برق نے ان معاملات کو بنیاد بنا کر کارروائی کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ اگر کوئی شخص ’’آئی لو محمد‘‘ کہتا ہے تو اس میں غیر قانونی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ’’آئی لو محمد‘‘ کہتے ہیں اور اگر یہ جرم ہے تو انہیں سزا دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نعروں یا پوسٹروں کو متنازعہ بنا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رکن پارلیمان نے سبز جھنڈے کے معاملے پر بھی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سبز رنگ اسلامی مذہبی روایات سے وابستہ ہے اور اسے کسی ملک کے قومی پرچم یا سیاسی علامت سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق عید میلاد النبی سمیت مختلف مذہبی مواقع پر مسلمان سبز جھنڈوں کا استعمال کرتے ہیں اور اسے پاکستان یا بنگلہ دیش کی علامت قرار دینا حقیقت کے منافی ہے۔
#WATCH | Sambhal, Uttar Pradesh: On legal battle over mosque land registered with Waqf Board, Samajwadi Party MP Zia Ur Rehman Barq, says, “For the past few years, a disturbing trend has emerged where religious sites such as mosques, madrasas, graveyards, Eidgahs, and shrines in… pic.twitter.com/98vW6wmAw9
— ANI UP/Uttarakhand (@ANINewsUP) June 7, 2026
ضیاء الرحمٰن برق نے الزام لگایا کہ سنبھل میں مساجد، مدارس، قبرستانوں، عیدگاہوں اور مزارات کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں ایک مخصوص پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد سماجی تقسیم کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افسران عوامی توجہ ہٹانے کے لیے پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور اصل حقائق کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کوئی غلط یا بے بنیاد رپورٹ درج کی گئی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ملک کا آئین ہر شہری کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے اور کسی بھی کارروائی کو قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگوں کو مل جل کر رہنا چاہیے اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
ضیاء الرحمٰن برق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اس معاملے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی کوششوں اور متعدد درخواستوں کے باوجود انتظامیہ نے کاسیروا گاؤں میں واقع مسجد کو منہدم کر دیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے اور مقامی آبادی میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام کی فریاد اور قانونی دلائل کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو انصاف کے نظام پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان کا آئین کسی فرد، جماعت یا حکومت کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ رکنِ پارلیمان کے مطابق مسجد کے انہدام کے بعد علاقے میں غم و افسردگی کی فضا ہے اور مقامی لوگ اس واقعے کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے ذریعے عوامی آواز کو دبانے کی کوششیں دیرپا ثابت نہیں ہو سکتیں اور آئینی راستے سے انصاف کے حصول کی جدوجہد جاری رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…