قومی

Kejriwal identified himself as an “intellectual Naxal: اچھے سرکاری اسکول اور بہتر سرکاری اسپتال چاہتے ہیں، وہ بھی وزیر اعظم کے معیار کے مطابق دماغی نکسل ہیں- اروند کیجریوال

نئی دہلی : یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کا ایک حصہ سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جس میں انہوں نے ’دِماغی نکسل‘ کا ذکر کیا تھا۔ وزیر اعظم کے ان دو الفاظ کے بعد سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ اب عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کیجریوال نے خود کو ’دِماغی نکسل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے۔اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے بیان پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مطابق دِماغی نکسل کون ہیں؟ وہ لوگ جو ملک میں سوال اٹھانے کی ہمت کرتے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق جو لوگ فرسودہ اور خراب نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اچھے سرکاری اسکول اور بہتر سرکاری اسپتال چاہتے ہیں، وہ بھی وزیر اعظم کے معیار کے مطابق دِماغی نکسل ہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ جو لوگ بہتر بجلی اور پانی، سیوریج اور نکاسیٔ آب کے انتظامات چاہتے ہیں، اچھا نظام چاہتے ہیں اور بدعنوانی سے پاک ہندوستان کا خواب دیکھتے ہیں، انہیں بھی دِماغی نکسل کہا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھتا ہے، وہ بھی وزیر اعظم کی نظر میں دِماغی نکسل ہے۔

’بھگت سنگھ اور امبیڈکر کو بھی دِماغی نکسل کہتے‘

اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں آزادیٔ ہند کے عظیم انقلابی شہید بھگت سنگھ اور آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو وزیر اعظم انہیں بھی دِماغی نکسل قرار دے دیتے۔ اسی طرح اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے، جنہوں نے ملک میں سب کی برابری کے لیے جدوجہد کی، تو کیجریوال کے مطابق انہیں بھی دِماغی نکسل کہنے سے نہیں بخشا جاتا۔

’میں دِماغی نکسل ہوں، مجھے فخر ہے‘

اپنے بیان کے آخر میں کیجریوال نے براہِ راست وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کے مطابق دِماغی نکسل ہیں، کیونکہ وہ محبِ وطن ہیں اور انہیں اس بات پر فخر ہے۔کیجریوال نے کہا کہ اگر ملک کے خلاف کوئی شخص کچھ کرے گا یا ایسی بات کہے گا تو وہ پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام ’جے ہند‘ کے نعرے کے ساتھ کیا۔وزیر اعظم مودی نے یومِ آزادی کی تقریر میں کہا تھا کہ مسلح نکسل ازم ختم ہوچکا ہے، تاہم ’دِماغی نکسل‘ اب بھی موقع کی تلاش میں ہیں۔ ان کے اسی بیان پر اپوزیشن کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں اور سیاسی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

1 hour ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

3 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

4 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

5 hours ago