قومی

Sustainability on Wheels: حیدرآباد کے اکشے سی ایس دیش پانڈے کا انوکھا ماڈل، اب کچرا پروسیسنگ پلانٹ خود پہنچے گا آپ کے پاس

شہروں میں بڑھتا ہوا کچرا اور اس کا مناسب انتظام آج بڑے ماحولیاتی چیلنجز میں شامل ہے۔ روایتی ویسٹ مینجمنٹ نظام میں مختلف مقامات سے کچرا جمع کرکے اسے شہر سے دور واقع بڑے پروسیسنگ مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ایندھن، وقت اور مالی وسائل کی خاصی کھپت ہوتی ہے۔ اسی مسئلے کا ایک منفرد اور پائیدار حل حیدرآباد کے کاروباری شخصیت اکشے سی ایس دیش پانڈے نے پیش کیا ہے۔ ان کے وینچر ’Switcheko‘ نے ’Sustainability on Wheels‘ کے تصور کے تحت کچرا انتظام کے روایتی طریقۂ کار سے ہٹ کر ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس میں پروسیسنگ یونٹ خود کچرا پیدا ہونے والی جگہ تک پہنچتا ہے۔

کیا ہے ’Sustainability on Wheels‘ ماڈل؟

Switcheko کا یہ ماڈل کچرے کو بار بار مختلف مقامات سے منتقل کرکے دور واقع پلانٹ تک پہنچانے کے بجائے موبائل پروسیسنگ یونٹ کو براہِ راست کچرا پیدا ہونے کے مقام پر پہنچانے پر مبنی ہے۔ یعنی جہاں کچرا پیدا ہو رہا ہے، وہیں اس کی ابتدائی پروسیسنگ شروع کی جا سکتی ہے۔ اس طریقے سے کچرے کی طویل مسافت تک نقل و حمل پر انحصار کم ہوتا ہے اور مقامی سطح پر ہی اسے قابلِ استعمال وسائل میں تبدیل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ایک موبائل یونٹ میں کئی طرح کی سہولیات

Switcheko کے موبائل سسٹم کو کثیر المقاصد بنایا گیا ہے، جس میں کچرے کی مختلف اقسام سے نمٹنے کے لیے متعدد سہولیات شامل ہیں۔

شریڈنگ اور بیلنگ: کچرے کا حجم کم کرنے اور اسے کمپیکٹ شکل دینے کے لیے۔

کمپوسٹنگ: گیلے کچرے کو نامیاتی کھاد میں تبدیل کرنے کی سہولت۔

تھرموکول پروسیسنگ: زیادہ جگہ گھیرنے والے تھرموکول کو موقع پر ہی پروسیس کرنے کا انتظام۔

ای ویسٹ ہینڈلنگ: الیکٹرانک کچرے کو مناسب اور محفوظ طریقے سے سنبھالنے کی سہولت۔

کچرے کی نوعیت اور ضرورت کے مطابق ان موبائل یونٹس کو مختلف مقامات پر آسانی سے تعینات کیا جا سکتا ہے۔

اب تک ایک لاکھ کلو سے زیادہ کچرا پروسیس

Switcheko کے مطابق اس موبائل سسٹم کے ذریعے اب تک ایک لاکھ کلوگرام، یعنی 100 ٹن سے زیادہ کچرے کو کامیابی کے ساتھ پروسیس کیا جا چکا ہے۔ یہ ماڈل خاص طور پر ان مقامات کے لیے کارآمد بتایا جا رہا ہے جہاں ایک ہی وقت میں بڑی مقدار میں کچرا جمع ہوتا ہے۔ ان میں بڑے ہاؤسنگ کمپلیکس، صنعتی علاقے، تجارتی مراکز، بڑے پروگرام اور تقریبات شامل ہیں۔

کچرا جہاں پیدا ہو، پروسیسنگ بھی وہیں

اکشے سی ایس دیش پانڈے کا یہ ماڈل کچرے کی نقل و حمل پر ہونے والے اخراجات اور ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں کمی کی سمت بھی ایک طریقہ پیش کرتا ہے۔ کچرے کی پیداوار کے مقام پر ہی اس کی ابتدائی پروسیسنگ ہونے سے لینڈ فل سائٹس پر جانے والے کچرے کی مقدار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح ’Sustainability on Wheels‘ ماڈل شہری کچرا انتظام کو زیادہ مقامی، متحرک اور وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Home Minister Amit Shah: گریٹر نوئیڈا میں دو خفیہ ڈرگ لیب کا پردہ فاش، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گریٹر نوئیڈا میں دو خفیہ ڈرگ لیب کا پردہ…

6 hours ago

Non Bailable Warrant Against Rakhi Sawant: راکھی ساونت کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، کیا ہے 16 سال پرانا معاملہ؟

16 سال پرانے رئیلٹی شو تنازع اور خودکشی کے لیے اکسانے کے معاملے میں جھانسی…

7 hours ago

Kolkata Durga Puja Accident: کولکاتا میں درگا پوجا کے دوران پنڈال گرنے سے بھگدڑ، 17 افراد کی موت، پوجا کمیٹی پر لاپروائی کا الزام

درگا پوجا کی خوشیوں کے درمیان سپتمی کی شام شمالی کولکاتا کے چورباگان سروجنین پوجا…

7 hours ago

Air India Flights: سعودی عرب جانے والی ایئر انڈیا کی پروازیں 24 اکتوبر تک منسوخ، حوثی باغیوں کی دھمکی کے بعد فیصلہ

ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا، ’’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئر انڈیا اور…

7 hours ago