قومی

Hyderabad man killed pregnant wife: حاملہ بیوی کا گلا گھونٹا،سر کاٹا،ہاتھ اور پاوں الگ الگ کاٹ کر موسیٰ ندی میں پھینک دیا،حیدرآباد میں انسانیت شرمسار

حیدرآباد کے میڈی پلی علاقے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا۔ 27 سالہ سملا مہندر ریڈی نے اپنی 21 سالہ حاملہ بیوی بی۔ سواتی کا گلا دبا کر قتل کر دیا اور پھر لاش کو ٹکڑوں میں کاٹ کر موسیٰ ندی میں پھینک دیا۔ یہ خوفناک کہانی ایک محبت کے رشتے سے شروع ہوئی جو جلد ہی شکوک و شبہات اور جھگڑوں کی نذر ہو گئی۔ کیا محبت کی شروعات اتنا بھیانک انجام کا باعث بن سکتی ہے؟ مہندر اور سواتی نے 20 جنوری 2024 کو ککٹ پلی کے آریہ سماج میں محبت کی شادی کی تھی۔ دونوں پڑوسی تھے اور ان کے رشتے کے ابتدائی دن خوشگوار تھے۔ لیکن صرف ایک ماہ بعد، فروری 2024 میں، خاندانی تنازعات نے ان کے رشتے کو زہر آلود کر دیا۔ سواتی نے اپریل 2024 میں وکٹ آباد پولیس اسٹیشن میں مہندر کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ گاؤں کے معززین نے پنچایت کے ذریعے دونوں کے درمیان صلح کروائی، لیکن مہندر کے دل میں شک کا بیج بو دیا گیا۔

مہندر کو سواتی کے نوکری کرنے پر اعتراض تھا۔ اس نے سواتی پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی نوکری چھوڑ دے، اور بالآخر سواتی کو نوکری چھوڑنی پڑی۔ مارچ 2025 تک سواتی پانچ ماہ کی حاملہ تھی، لیکن دونوں کے درمیان جھگڑے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ مہندر کا شک اور غصہ بڑھتا گیا، جو بالآخر ایک خوفناک انجام کا سبب بنا۔ 22 اگست 2025 کو سواتی نے اپنے میکے جانے کی خواہش ظاہر کی، جسے مہندر نے مسترد کر دیا۔ غصے میں آکر اس نے سواتی کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔ اس نے ایک کلہاڑی کا بلیڈ خریدا اور 23 اگست 2025 کو سواتی کا گلا دبا کر اسے قتل کر دیا۔ شواہد مٹانے کے لیے اس نے لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا۔ سر، ہاتھ اور ٹانگوں کو اس نے پرتھاپ سنگارم گاؤں کے قریب موسیٰ ندی میں پھینک دیا، جبکہ دھڑ کو اس نے اپنے کمرے میں رکھ لیا۔

رچکونڈا پولیس کمشنر جی۔ سدھیر بابو اور ڈی سی پی ملکاجگیری زون محترمہ پی۔ وی۔ پدما جا کی قیادت میں میڈی پلی پولیس نے فوری کارروائی کی۔ انسپکٹر آر۔ گووند ریڈی اور سب انسپکٹر اے۔ نرسنگ راؤ کی ٹیم نے مہندر کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے جرم کے شواہد جمع کیے اور ندی سے لاش کے کچھ حصوں کو برآمد کیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندانی المیہ ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ محبت سے شروع ہونے والا رشتہ شک، عدم برداشت اور تشدد کی نذر کیسے ہو سکتا ہے؟ جہیز کے مسائل، گھریلو تشدد اور رشتوں میں اعتماد کی کمی جیسے موضوعات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ رچکونڈا پولیس نے اس واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھریلو تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کریں اور قانون کا سہارا لیں۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہر فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ رشتوں میں اعتماد، برداشت اور بات چیت کتنی اہم ہے۔ اگر آپ اس معاملے پر مزید معلومات یا کسی خاص پہلو پر بات کرنا چاہتے ہیں، تو براہ کرم بتائیں۔

 بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

13 minutes ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

39 minutes ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

47 minutes ago