نئی دہلی: اتر پردیش کے محکمہ توانائی میں ان دنوں سب کچھ معمول کے مطابق نہیں چل رہا۔ توانائی کے وزیر اے کے شرما اور اتر پردیش پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی پی سی ایل) کے چیئرمین آشیش گوئل کے درمیان اختلافات اب کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس تنازع نے محکمہ کی کارکردگی، انتظامی ہم آہنگی اور عوام پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بجلی کے نرخوں میں اضافے پر وزیر کی ناراضی
تنازع کی بنیادی وجہ بجلی کے بلوں میں سرچارج شامل کرکے نرخوں میں اضافہ بتائی جا رہی ہے۔ توانائی کے وزیر اے کے شرما نے چیئرمین آشیش گوئل کو ایک سخت لہجے میں خط لکھ کر اس فیصلے پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے۔ وزیر کا کہنا ہے کہ ان کی منظوری کے بغیر بجلی کے نرخ بڑھا دیے گئے، جبکہ اس طرح کے اہم فیصلے سے قبل انہیں اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔وزیر نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس فیصلے کی اطلاع محکمہ کے سرکاری ذرائع سے نہیں بلکہ میڈیا رپورٹس اور ٹی وی خبروں کے ذریعے ملی، جو کہ انتظامی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
وزیر کا دو ٹوک سوال
اپنے خط میں اے کے شرما نے سوال اٹھایا کہ عوام کو براہ راست متاثر کرنے والے اتنے بڑے فیصلے سے پہلے ان سے مشورہ کرنا ضروری کیوں نہیں سمجھا گیا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین محکمہ جاتی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں محکمہ کے اہم معاملات سے مسلسل دور رکھا جا رہا ہے۔وزیر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چیئرمین بعض اوقات بغیر اجازت دفتر سے غیر حاضر رہتے ہیں اور محکمانہ سرگرمیوں کی مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
ملازمین کی برطرفی پر بھی اعتراض
توانائی کے وزیر نے محکمہ میں ملازمین کی مبینہ چھانٹی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ تجربہ کار اور اہل ملازمین کو جان بوجھ کر ہٹایا جا رہا ہے، جس کے باعث محکمہ کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ وزیر کے مطابق اس عمل سے نہ صرف انتظامی نظام کمزور ہو رہا ہے بلکہ عوامی خدمات پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
انتظامی سطح پر بڑھتی خلیج
ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اور چیئرمین کے درمیان یہ کھلا اختلاف محکمہ توانائی کے اعلیٰ سطحی انتظامی ڈھانچے میں گہری خلیج کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر اعلیٰ حکام کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان برقرار رہا تو اس کا براہِ راست اثر بجلی صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
عوامی خدشات میں اضافہ
بجلی کے بلوں میں ممکنہ اضافے اور ملازمین کی چھانٹی کے معاملات پہلے ہی عوامی بحث کا موضوع بنے ہوئے تھے، لیکن اب وزیر اور چیئرمین کے درمیان جاری تنازع نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک یو پی پی سی ایل یا چیئرمین آشیش گوئل کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم یہ واضح ہے کہ اتر پردیش کے پاور سیکٹر میں ہلچل تیز ہو چکی ہے۔سیاسی اور انتظامی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ تنازع جلد حل ہو پاتا ہے یا پھر اس کے اثرات بجلی صارفین اور محکمہ کی کارکردگی پر مزید گہرے ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…