دنیا بھر میں کئی دہائیوں سے امریکہ پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ایک مخصوص ’’وار ڈپلومیسی‘‘ ماڈل پر عمل کرتا ہے، جس کے تحت پہلے کسی خطے میں تنازعہ بھڑکایا جاتا ہے، پھر ایک فریق کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کر کے جنگ کو طول دیا جاتا ہے، بعد ازاں ثالثی کے نام پر سفارتی اثر و رسوخ بڑھایا جاتا ہے اور آخر میں تعمیر نو کے ٹھیکے امریکی کمپنیوں کو دے کر معاشی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ روس-یوکرین جنگ اس ماڈل کی تازہ ترین مثال ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ماڈل کے چار واضح مراحل ہیں:
اشتعال انگیزی – فوجی اتحاد یا سفارتی اشاروں سے علاقائی عدم تحفظ پیدا کرنا۔
اسلحہ فراہمی – جنگ شروع ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت۔
ثالثی کی کوشش – جنگ کے بعد امریکہ کو امن قائم کرنے والے کے طور پر پیش کرنا۔
تعمیر نو کا کنٹرول – امریکی کارپوریشنز کو تعمیر نو کے بڑے ٹھیکے دلوانا۔
روس-یوکرین جنگ میں امریکہ نے یوکرین کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے، جس سے امریکی دفاعی صنعت کو ریکارڈ منافع ہوا، جبکہ جنگ سے متاثرہ یوکرین کی تعمیر نو میں بھی امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کی مزاحمت اور مودی کا فیصلہ
وزیراعظم نریندر مودی نے اس ماڈل کو جنوبی ایشیا میں داخل ہونے سے روکا۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ثالثی کی پیشکش کی، مگر مودی نے اسے صاف مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کشمیر اور دیگر مسائل خالصتاً دوطرفہ ہیں اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ یہ پالیسی نہ صرف بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کا ثبوت بنی بلکہ اس نے خطے میں غیر ضروری بین الاقوامی دباؤ سے بھی بچایا۔ ماہرین کے مطابق اس مؤقف نے بھارت کو ایک ذمہ دار اور خودمختار طاقت کے طور پر پیش کیا جو اپنے تنازعات خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
بھارت کا ردعمل ایک متبادل راستہ
روس-یوکرین جنگ جہاں امریکی ماڈل کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے، وہیں بھارت کا ردعمل ایک متبادل راستہ دکھاتا ہے۔ مودی حکومت نے ثابت کیا کہ عالمی طاقتوں کے دباؤ سے بچتے ہوئے بھی قومی مفاد اور خودمختاری کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں یہ مؤقف دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ممبئی، 26 اکتوبر (آئی اے این ایس): کامیڈی کی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوتے…
بیٹیوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے پہلے خاندانوں کے ذہن میں ان کی حفاظت…
الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آدھار کارڈ عمر کا ثبوت نہیں…
بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے لیے عدالت سخت، لڑکے کی عمر کم از…
آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر، فیصلہ کن مقابلے میں…
سابق وزیر پر سرکاری منظوریوں کے نام پر رقم وصول کرنے کا الزام لگایا گیا…