قومی

Jantar Mantar: جانیے جنتر منتر کیسے بنا ملک میں احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز اور ہر بڑا مظاہرہ آخر یہیں کیوں ہوتا ہے؟

دہلی کا تاریخی جنتر منتر ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ نیٹ (NEET) پیپر لیک معاملے پر سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے باعث یہاں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ جب بھی ملک میں کسی بڑے احتجاج یا عوامی تحریک کا ذکر ہوتا ہے تو جنتر منتر کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، لیکن یہ مقام بھارت میں احتجاج کی سب سے اہم علامت کیسے بنا، اس کی اپنی ایک دلچسپ تاریخ ہے۔

بوٹ کلب کبھی احتجاج کا سب سے بڑا مرکز تھا

1990 کی دہائی سے پہلے دہلی کے انڈیا گیٹ کے قریب واقع بوٹ کلب ملک بھر کے احتجاجی مظاہروں کا سب سے بڑا مقام تھا۔ سیاسی جماعتیں، کسان تنظیمیں، طلبہ اور سماجی ادارے اپنی آواز بلند کرنے کے لیے اسی مقام کا انتخاب کرتے تھے، جہاں لاکھوں افراد کے اجتماع کی گنجائش موجود تھی۔

1988 کی کسان تحریک کے بعد منظرنامہ بدل گیا

سال 1988 میں کسان رہنما مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں تقریباً پانچ لاکھ کسانوں نے بوٹ کلب پر طویل دھرنا دیا، جس کے باعث دہلی میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے بعد سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے اور انتظامیہ نے بوٹ کلب میں ریلیوں اور دھرنوں پر مستقل پابندی عائد کر دی۔

جنتر منتر کو باضابطہ احتجاجی مقام کیوں بنایا گیا؟

بوٹ کلب پر پابندی کے بعد حکومت ایسے مقام کی تلاش میں تھی جہاں شہری اپنے جمہوری حق کے تحت احتجاج بھی کر سکیں اور سیکیورٹی کے مسائل بھی پیدا نہ ہوں۔ اسی مقصد کے تحت پارلیمنٹ مارگ کے قریب واقع جنتر منتر کو سرکاری طور پر احتجاج اور دھرنوں کے لیے مخصوص مقام قرار دیا گیا۔

مقام کی جغرافیائی اہمیت نے بڑھائی مقبولیت

جنتر منتر کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا مرکزی محلِ وقوع ہے۔ یہ راجیو چوک میٹرو اسٹیشن اور پارلیمنٹ کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں پہنچنا آسان ہے اور احتجاج کی آواز براہِ راست حکومت تک پہنچتی ہے۔ اس کے علاوہ قومی میڈیا کے دفاتر بھی قریب ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والا ہر احتجاج فوری طور پر قومی سطح پر نمایاں ہو جاتا ہے۔

پہلا باضابطہ احتجاج اور بعد کی بڑی تحریکیں

جنتر منتر پر پہلا سرکاری احتجاج 1993 میں دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) کے اُس وقت کے صدر آشیش سود کی قیادت میں ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ مقام ہزاروں احتجاجی مظاہروں کا گواہ بن چکا ہے۔ 2011 میں انا ہزارے کی انسدادِ بدعنوانی تحریک، 2012 کی نربھیا تحریک، کسانوں کے مختلف احتجاج اور بین الاقوامی پہلوانوں کی انصاف کی مہم سمیت کئی اہم عوامی تحریکوں نے جنتر منتر کو بھارتی جمہوریت میں احتجاج کی سب سے مضبوط علامت بنا دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

2 hours ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

5 hours ago