بھارت نے اسمارٹ فون اسمبلی میں خود انحصاری حاصل کرنے کے بعد اب الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مقامی ویلیو ایڈیشن (Value Addition) کو فروغ دینے کی بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔ حکومت کا مقصد نہ صرف اسمارٹ فون بلکہ دیگر الیکٹرانکس مصنوعات کی تیاری میں بنیادی اجزاء (Components) کی مینوفیکچرنگ کو بھی بھارت میں ممکن بنانا ہے، تاکہ برآمدات کو فروغ دیا جا سکے اور عالمی سپلائی چین میں بھارت کا کردار مزید مضبوط ہو۔
گزشتہ چند برسوں میں ایپل اور سام سنگ جیسی بڑی کمپنیوں نے بھارت میں پیداواری مراکز قائم کیے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں ہنرمند افرادی قوت، حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مالی مراعات، اور چین پر انحصار کم کرنے کے لیے عالمی کمپنیوں کا رجحان شامل ہے۔ ان عوامل نے بھارت کو ایک نئی مینوفیکچرنگ ہب کے طور پر ابھرنے میں مدد دی ہے۔
حکومت نے اس سمت میں کئی بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت 76,000 کروڑ روپے کی اسکیم لائی گئی ہے، جس کا مقصد چِپ سازی اور پیکیجنگ کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں 23,000 کروڑ روپے کی نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ غیر فعال الیکٹرانک اجزاء جیسے ریزسٹرز اور کیپیسٹرز کی مقامی تیاری پر مرکوز ہے۔
پہلے سے موجود پروڈکشن لنکڈ انسنٹیو (PLI) اسکیمز، جو کہ اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ اسمبلی کے لیے متعارف کرائی گئی تھیں، کو اب دیگر ذیلی شعبوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔ اس طرح، بھارت ایک مکمل الیکٹرانکس ایکو سسٹم بنانے کی راہ پر گامزن ہے، جہاں خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک تمام مراحل مقامی سطح پر مکمل ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی، تو نہ صرف روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا بلکہ بھارت عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شراکت دار بن کر اُبھرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سرگرمی کو ’پُرامن احتجاج‘ قرار نہیں دیا جا…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ مدھیہ پردیش کے دورے کے دوران گوپالک کانفرنس…
یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب…
انکش پنگھال کے گولڈ کے ساتھ ہی ایشیئن گیمز 2026 میں ہندوستان کی باکسنگ مہم…
فگواڑہ کے LPU کیمپس میں 10 روز سے جاری تنازع کے درمیان پولیس کا بڑا…
الزام ہے کہ سونا جسم کے مختلف حصوں، کپڑوں اور جوتوں میں چھپا کر ہندوستان…