قومی

Home ministry released 507.37 crore: آفات کے خطرات میں آئے گی کمی: امت شاہ نے 20 ریاستوں کے لیے جاری کیے 507.37 کروڑ روپے

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ کی صدارت والی اعلیٰ سطحی کمیٹی (ایچ ایل سی) نے پنچایتی راج اداروں میں کمیونٹی پر مبنی آفات کے خطرات میں کمی (ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن) کی پہل کو مضبوط بنانے کے لیے قومی منصوبے کے تحت 20 ریاستوں کے لیے 507.37 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ مودی حکومت نے 2021 میں قومی آفات تخفیف فنڈ کا آغاز کیا تھا تاکہ سماج کو کسی بھی آفت کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط بنایا جا سکے۔ اس پہل کو پنچایت کی سطح تک توسیع دی گئی ہے۔ مودی حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو کسی بھی آفت کا پُراعتماد انداز میں سامنا کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے عزم پر قائم ہے۔

این ڈی ایم اے کے تعاون سے عملدرآمد

یہ پہل وزارت پنچایتی راج اور قومی آفات انتظامی اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے تعاون سے نافذ کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے آفات سے محفوظ ہندوستان کا وژن کو عملی شکل دینے کے لیے وزارت داخلہ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔

یہ پہل کیسے کام کرے گی؟

اس پہل کا مقصد آفات کے انتظام کے لیے ’نیچے سے اوپر‘ کے طریقۂ کار کے تحت آفات کے خطرات میں کمی (ڈی آر آر) کے طریقوں کو حکمرانی کے ڈھانچے میں ضم کرنا ہے۔ یہ پروگرام 20 ریاستوں کے 81 آفت سے متاثر ہونے کے خدشات والے اضلاع کا احاطہ کرے گا اور بڑے خطرات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 20 گرام پنچایتوں کو مقامی ڈی آر آر کے لیے ایسے نمونہ مراکز کے طور پر تیار کرے گا جنہیں دیگر علاقوں میں بھی نافذ کیا جا سکے۔ یہ پروگرام DRR میں پنچایتی راج اداروں کو بااختیار بنانے کے اقدامات میں پنچایتی راج کی وزارت اور ریاستوں کی کوششوں کی تکمیل کرے گا۔

کس کا کتنا حصہ

507.37 کروڑ روپے کے مجموعی منظور شدہ منصوبہ جاتی خرچ میں سے 273.38 کروڑ روپے قومی آفات تخفیف فنڈ (این ڈی ایم ایف) کے تحت مرکزی حصے کے طور پر ہوں گے، جبکہ ریاستیں متناسب حصے کے طور پر 30.37 کروڑ روپے فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ وزارتِ پنچایتی راج سے 151.47 کروڑ روپے حاصل ہوں گے اور ریاستیں متناسب حصے کے طور پر 52.15 کروڑ روپے کا تعاون کریں گی۔

کون سے کام انجام دیے جائیں گے

منصوبے کے تحت شامل سرگرمیوں میں پنچایتی راج اداروں کے ذریعے ڈی آر آر ترقیاتی منصوبہ بندی میں ادارہ جاتی مضبوطی اور پالیسی انضمام، معلومات، تعلیم اور ابلاغ (آئی ای سی) کے ذریعے ریاستی آفات انتظامی اتھارٹیز (ایس ڈی ایم اے)، ضلعی آفات انتظامی اتھارٹیز (ڈی ڈی ایم اے) اور پنچایتی راج اداروں کے اراکین کی صلاحیت سازی اور بیداری پیدا کرنا، نیز مقامی سطح پر آفات کی تخفیف کے لیے مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

17 minutes ago

Chandrashekhar Azad Attacks on Yogi Government: بہوجن سماج کے بچوں کو افسر نہیں، نشے کا عادی بنانا چاہتی ہے حکومت: چندر شیکھر آزاد

20 ہزار اسکول بند کیے گئے، جبکہ 20 ہزار سے زیادہ شراب کی دکانیں کھولی…

1 hour ago

PM Awas Yojna: جام نگر کے مستحقین نے کہا- پکے مکان کا خواب وزیر اعظم مودی نے کیا پورا

گجرات کے جام نگر میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد بتا رہے ہیں…

2 hours ago

Delhi Pollution: دہلی میں آلودگی کے خلاف پابندیاں: یکم نومبر سے ان گاڑیوں کے داخلے پر روک

سردیوں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے یکم نومبر سے دہلی…

3 hours ago

Cyclone Arnab: طوفان ’ارنب‘ کے باعث جھارکھنڈ کے 7 اضلاع میں شدید بارش کا ’اورنج الرٹ‘، کب ملے گی راحت؟

محکمۂ موسمیات نے ریاست کے پورے مغربی خطے میں شدید سے بہت شدید بارش کے…

3 hours ago