مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سرحدی سکیورٹی کے حوالے سے مسلح سرحدی فورس (SSB) کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے افسران اور جوانوں کے ساتھ سرحد پر سکیورٹی انتظامات، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور خفیہ معلومات شیئر کرنے کے طریقہ کار کو قریب سے دیکھا۔ سلی گوڑی کوریڈور ملک کے لیے انتہائی اہم اسٹریٹجک علاقہ ہے، اس لیے یہاں سرحدی سکیورٹی میں کسی بھی سطح کی لاپروائی کی گنجائش نہیں سمجھی جاتی۔ دورے کے دوران امت شاہ کو ایس ایس بی کی جانب سے استعمال کی جانے والی متعدد جدید ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ بھی دکھایا گیا۔ ان میں ڈرون، اینٹی ڈرون سسٹم، تھرمل امیجنگ آلات اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی جیسی ٹیکنالوجیز شامل تھیں۔ ان کا مقصد سرحد پر ہونے والی سرگرمیوں پر زیادہ تیز اور درست نظر رکھنا ہے۔
نیپال اور بھوٹان سے متصل کھلی سرحد پر خصوصی نگرانی
ایس ایس بی کی ذمہ داری بھارت-نیپال اور بھارت-بھوٹان سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ان سرحدوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں لوگوں کی آمدورفت اور مقامی سطح پر سماجی و ثقافتی رابطے طویل عرصے سے جاری ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی انتظامات کو سخت رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں پڑوسی ممالک کے ساتھ قائم سماجی اور ثقافتی تعلقات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔سلی گوڑی کا علاقہ اس لحاظ سے مزید اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ یہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے والے حساس راستے کے قریب واقع ہے۔ سرحد پر کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی بروقت شناخت سکیورٹی ایجنسیوں کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
आज पश्चिम बंगाल के सिलीगुड़ी में सीमा सुरक्षा को लेकर सशस्त्र सीमा बल के जवानों की रणनीति और आधुनिक तकनीकी क्षमताओं का अवलोकन किया।
मित्र देशों के साथ सांस्कृतिक समन्वय बनाए रखते हुए खुली सीमा को जिस मुस्तैदी और कुशलता से हमारे SSB के जवानों ने सुरक्षित बनाया है, वह सराहनीय है।… pic.twitter.com/03aQfI8LHt
— Amit Shah (@AmitShah) August 21, 2026
اسمارٹ نگرانی اور ریئل ٹائم انٹیلی جنس پر زور
اجلاس اور ٹیکنالوجی کے مظاہرے کے دوران سرحدی سکیورٹی کے لیے ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئر کرنے کے نظام پر بھی زور دیا گیا۔ افسران نے نقشوں اور آپریشنل ماڈلز کے ذریعے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ جدید نگرانی کے نظام کی مدد سے ممکنہ خطرے کی پہلے ہی نشاندہی کرنے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی سرحدی سکیورٹی پالیسی میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ڈرون اور اے آئی پر مبنی نگرانی جیسے ذرائع کا استعمال روایتی سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا زور ایک ایسے مربوط سکیورٹی نظام کی تشکیل پر ہے، جس میں مختلف سطحوں سے حاصل ہونے والی معلومات کو تیزی سے یکجا کرکے بروقت کارروائی کی جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب…
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا کے ذریعے ان…
کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026 کے دوسرے دن بھارتی مردوں اور خواتین کی ٹیموں…
یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کا امتحان 3 نومبر کو دو شفٹوں میں ہوگا۔…
ہریدوار کے دیویہ پریم سیوا مشن کے فلاحی منصوبوں کے لیے وقف اور چھترپتی شیواجی…
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد سے کانگریس کا انکار، ریاستی صدر…