قومی

Role Models: چین میں مشہور شخصیات کے بجائے سائنس دانوں کے پوسٹر، تاکہ بچے انہیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں

نئی دہلی : چین کے مختلف شہروں میں بڑی عوامی اسکرینوں پر مشہور شخصیات اور تجارتی اشتہارات کی جگہ نامور سائنس دانوں کی تصاویر آویزاں کی جا رہی ہیں۔ اس پہل کا مقصد بچوں کو ان شخصیات سے متاثر کرنا ہے، جنہوں نے اپنی سائنسی تحقیق اور دریافتوں کے ذریعے معاشرے اور انسانیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ مہم اگست 2026 میں صوبہ شانڈونگ سے شروع ہوئی، جہاں ہیزے اور زیبو شہروں کے شاپنگ مالز نے رضاکارانہ طور پر اشتہارات کے لیے مختص نمایاں جگہ سائنس دانوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وقف کر دی۔ اس کے بعد یہ پہل ژینگژو، ہانگژو، چونگ چنگ اور جینان جیسے شہروں تک پھیل گئی۔ اب میٹرو اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور شاپنگ سینٹروں میں بھی سائنس دانوں کے پوسٹر دکھائی دے رہے ہیں۔
راکٹ، جوہری توانائی اور زراعت کے ماہرین کو خراج تحسین

ان پوسٹروں میں راکٹ سائنس دان چیان شوسن، جوہری طبیعیات کے ماہر ڈینگ جیاشیان، زرعی سائنس دان یوآن لونگ پنگ اور نوبل انعام یافتہ سائنس دان تو یو یو شامل ہیں۔یوآن لونگ پنگ نے ہائبرڈ چاول کی تیاری اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ تو یو یو کو ملیریا کے علاج سے متعلق ان کی اہم تحقیق کے لیے نوبل انعام دیا گیا تھا۔ چیان شوسن نے چین کے راکٹ اور خلائی پروگرام کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، جبکہ ڈینگ جیاشیان چین کے جوہری سائنس کے اہم ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ہر پوسٹر پر متعلقہ سائنس دان کا نام اور ان کی نمایاں کامیابیاں درج ہیں۔ ان کے ذریعے ان شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جا رہا ہے جن کی دریافتوں اور تحقیق نے معاشرے پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔ بعض پوسٹروں میں سائنس دانوں کو ملک کے ’’سب سے بڑے ستارے‘‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

بچوں کے لیے کامیابی کی نئی مثالیں

اس مہم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ بچوں کو ایسے لوگوں کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہیے جو انسانی علم میں اضافہ کرتے ہیں، زندگیاں بچاتے ہیں اور مستقبل کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔اس پہل نے بین الاقوامی توجہ بھی حاصل کی ہے اور اس بات پر بحث شروع ہوئی ہے کہ سائنس دانوں کو بھی وہی عوامی پذیرائی کیوں نہ دی جائے جو عام طور پر فلمی ستاروں اور تفریحی دنیا کی مشہور شخصیات کو حاصل ہوتی ہے۔یہ مہم اس خیال کو اجاگر کرتی ہے کہ متاثر کن ہیرو صرف فلمی پردوں پر نظر آنے والے لوگ نہیں ہوتے، بلکہ وہ سائنس دان بھی ہوتے ہیں جو تجربہ گاہوں میں تحقیق کرکے دنیا کو بہتر بنانے کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

He treats him like his own child: اکھلیش سے ملاقات کے بعد بولیں اعظم خان کی اہلیہ، وہ انہیں اپنی اولاد کی طرح مانتے ہیں

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سوال پوچھے جانے پر تنظیم فاطمہ نے کہا…

2 hours ago