نئی دہلی :مرکزی حکومت نے ملک میں ایندھن کی ممکنہ قلت کو روکنے اور گھریلو سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ڈیزل اور ہوابازی کے ایندھن (اے ٹی ایف) کی برآمدات پر نئی ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ حکومت کے مطابق ڈیزل کی برآمد پر 14 روپے فی لیٹر جبکہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر 12.5 روپے فی لیٹر کی ڈیوٹی نافذ کی گئی ہے۔محکمہ محصولات (ریونیو ڈپارٹمنٹ) کے مطابق نئی شرحیں منگل سے نافذ العمل ہوں گی۔ اس فیصلے کے بعد تیل کمپنیوں کے لیے بیرونی منڈیوں میں ڈیزل اور اے ٹی ایف فروخت کرنا مہنگا ہو جائے گا، جس سے ملکی ضروریات کے لیے زیادہ مقدار میں ایندھن دستیاب رہنے کی توقع ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا اثر عام یوزر پر نہیں پڑے گا اور ملک کے اندر فروخت ہونے والے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یعنی عوام کو فی الحال ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔سرکاری پالیسی کے تحت ہر 15 دن بعد بین الاقوامی قیمتوں کی بنیاد پر ان ڈیوٹی شرحوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد تیل کمپنیوں کو زیادہ منافع کے لیے بیرون ملک فروخت کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیں مقامی منڈی میں سپلائی برقرار رکھنے پر توجہ دینے پر مجبور کرنا ہے۔
دوسری جانب وزارت پٹرولیم نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے کہا کہ ملک کی تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض پٹرول پمپوں پر نظر آنے والی بھیڑ سپلائی میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ بڑے صنعتی اور تجارتی یوزر بھی خوردہ پمپوں سے ڈیزل خرید رہے ہیں۔ صرف مئی کے مہینے میں تقریباً 42 کروڑ لیٹر ڈیزل کی طلب خوردہ پمپوں کی جانب منتقل ہوئی، جس کے باعث بعض مقامات پر عارضی دباؤ پیدا ہوا۔
عام یوزر کو سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے ایک عارضی ضابطہ بھی نافذ کیا ہے، جس کے تحت اب کوئی بھی شخص ایک دن میں خوردہ پٹرول پمپ سے زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل خرید سکے گا۔ بڑے صنعتی اداروں اور کمرشل صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے ڈیزل اپنے مخصوص کنزیومر پمپوں سے ہی حاصل کریں۔حکام کے مطابق یہ پابندی صرف 90 دن کے لیے عارضی بنیادوں پر نافذ کی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری یا طویل قطاروں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…