نئی دہلی: دہلی کے سَتیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے سے سات افراد کی موت کا معاملہ انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے۔ اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ دراصل، اس عرضی کے ذریعے عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ دہلی یونیورسٹی کو ہدایت دی جائے کہ تمام کالجوں کے لیے ہاسٹل کی تعمیر خود یونیورسٹی کرے۔ فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کل ہی ایک عبوری حکم جاری کیا گیا ہے۔ ایسے میں عرضی پر فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے؟
ایک دن پہلے ہائی کورٹ نے حکام کو لگائی تھی پھٹکار
اس سے ایک دن پہلے یعنی پیر (7 ستمبر) کو ہائی کورٹ نے سَتیہ نکیتن عمارت حادثے میں سات افراد کی موت پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور دہلی حکومت کے ساتھ متعلقہ اتھارٹی کو بھی پھٹکار لگائی تھی۔ پیر کو چیف جسٹس دیویندر اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے کہا تھا کہ اس حادثے کی ذمہ داری طے کرنی ہوگی اور افسران اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ عدالت نے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور ساتھ ہی تمام پی جی اور ہاسٹل کی حفاظتی جانچ کے بھی احکامات جاری کیے تھے۔
ابھی تو زندگی شروع کر رہے تھے نوجوان
دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس میں واقع سَتیہ نکیتن میں لڑکوں کا پی جی اچانک منہدم ہو گیا۔ اتوار (6 ستمبر) کی دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آئے اس حادثے نے لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تقریباً 12 افراد ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ اس حادثے میں پانچ طلبہ سمیت سات افراد کی موت ہو گئی، جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان اپنے گھروں سے نکل کر تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آئے تھے۔ وہ ابھی اپنی زندگی شروع ہی کر رہے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس حادثے کی ذمہ داری حکام کو لینی ہی ہوگی۔
غیر قانونی عمارتیں سیل ہوں گی، ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ خوفزدہ
سَتیہ نکیتن میں پیش آئے اس بڑے حادثے کے بعد دہلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پوری دہلی میں ایسی تمام عمارتیں، جو غیر قانونی طور پر پانچ یا اس سے زیادہ منزلوں کی تعمیر کی گئی ہیں، انہیں سیل کیا جائے گا۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد پی جی میں رہنے والے طلبہ کو محسوس ہو رہا ہے کہ وہ دونوں طرف سے پھنس گئے ہیں، کیونکہ سَتیہ نکیتن میں زیادہ تر پی جی پانچ یا اس سے زیادہ منزلہ عمارتوں میں ہی قائم ہیں۔ ایسے میں اگر پی جی سیل کر دیے گئے تو انہیں ایک بار پھر رہنے کے لیے نیا ٹھکانہ تلاش کرنا ہوگا۔سَتیہ نکیتن میں زیادہ تر عمارتیں اسی نوعیت کی ہیں، اس لیے طلبہ کو دور علاقوں میں پی جی تلاش کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے ان پر آنے جانے کے اضافی کرائے کا بوجھ پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اگر ان کا پی جی سیل کیا جاتا ہے تو دہلی حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ انہیں ان کی سکیورٹی ڈپازٹ کی رقم واپس مل جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایک پوسٹر پر لکھا ہے، ’انڈیا الائنس کا دوغلا پن، جیتے تو ای سی آئی…
چار سیریز پر مشتمل گولڈ میڈل میچ میں بھارتی ٹیم نے آغاز ہی سے اپنی…
سکیورٹی ایجنسیوں کو بڈگام کے یوسمرگ علاقے کے گھنے جنگلات میں پاکستانی دہشت گردوں کی…
منیشا کیر، نیرو اور آشِما اہلاوت کی تین رکنی ٹیم نے خواتین کے ٹریپ ٹیم…
وزیر اعظم کے دفتر (PMO) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مبارکباد دیتے ہوئے…
CAQM نے 29 ستمبر کو جاری کیا نیا گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان، آلودگی بڑھنے سے…