قومی

Rahul Gandhi: ’گیانیش کمار نے فارم-6 میں غیر قانونی تبدیلی کر کے عہدے کا غلط استعمال کیا‘، راہل گاندھی کا بڑا الزام

نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ کانگریس کے اعلیٰ لیڈروں نے ایک بار پھر ان پر نشانہ سادھا ہے۔ کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد کو نظر انداز کر رہا ہے اور اس سے جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک پریس نوٹ شیئر کیا، جس میں فارم-6 سے متعلق سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کا ذکر ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اب یہ بات پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے غیر قانونی اور یک طرفہ طریقے سے ’فارم-6‘ میں تبدیلی کی ہے۔  انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ایک اور مضبوط ثبوت ہے کہ گیانیش کمار اپنے عہدے کا غلط استعمال کرکے بی جے پی کی مدد کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت پر اس حملے میں شامل گیانیش کمار اور دیگر تمام افراد کو اس کی جواب دہی دینی ہوگی۔

پرینکا گاندھی نے بھی اٹھائے سوال

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام کاٹنا آئین اور انتخابی عمل کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس اس مبینہ من مانی کے خلاف مسلسل احتجاج کررہی ہے۔ ان کے مطابق عوام اب سمجھ چکے ہیں کہ انتخابات میں کس طرح مبینہ طور پر ہیرا پھیری کی جارہی ہے اور کانگریس اس ناانصافی کے خلاف اپنی آواز اٹھانا بند نہیں کرے گی۔

جے رام رمیش نے بھی الیکشن کمیشن پر لگائے سنگین الزامات

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بھی الیکشن کمیشن کے 26 ستمبر 2026 کے ایک پریس نوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کئی سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ SIR کا عمل انتہائی عجلت، مبینہ غیر قانونی طریقے اور لاپروائی کے ساتھ چلایا جارہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ اور ریٹائرڈ جج بھی اس پر تنقید کرچکے ہیں۔ جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مناسب طریقہ کار پر عمل کیے بغیر بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جارہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے فارم-6 میں تبدیلیاں کیں اور ابتدا میں ایسا تاثر دیا گیا کہ ان تبدیلیوں کو سپریم کورٹ کی منظوری حاصل ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ملک کے پہلے چیف الیکشن کمشنر سکومار سین جیسے عظیم افسران نے غیر جانب داری کی جو شاندار روایت قائم کی تھی، گیانیش کمار اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے اشارے پر قانون کی خلاف ورزی کی اور آئین کے ساتھ دھوکا کیا۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے فی الحال جواب طلب کیا ہے، تاہم عدالت کی جانب سے ابھی کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Jantar Mantar protests: جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران سی آئی ایس ایف جوان پر چاقو سے حملہ، دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…

3 hours ago