نئی دہلی: گجرات اسمبلی کے اسپیکر شنکر بھائی چودھری نے منگل کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں لیڈران کے درمیان تعاون، زراعت اور ماحولیات سے متعلق کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ گجرات کے وزرا کا دہلی دورہ بھی ان دنوں جاری ہے، ایسے میں شنکر چودھری کی وزیر اعظم سے ملاقات سیاسی حلقوں میں بھی توجہ کا مرکز رہی۔ شنکر چودھری نے ملاقات کی تصاویر اور تفصیلات اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملاقات کو خوشگوار اور اپنائیت بھری ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مختلف امور پر وزیر اعظم کی رہنمائی حاصل ہوئی۔
مویشی پالنے والوں کے مفادات پر گفتگو
ملاقات کے دوران زراعت اور مویشی پروری سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ شنکر چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دودھ کی درآمد کے معاملے پر حکومت کے موقف کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، عالمی سطح پر دباؤ کے باوجود دودھ کی درآمد پر پابندی برقرار رکھ کر ملک کے مویشی پالنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔
گوبر دھن اسکیم کا بھی ذکر
شنکر چودھری نے حکومت کی گوبر دھن اسکیم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 23000 کروڑ روپے سے زیادہ کی اس اسکیم کے ذریعے مویشی پالنے والوں کو معاشی طور پر مضبوط اور خود انحصار بنانے کی سمت میں کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مویشی پروری سے وابستہ وسائل کا بہتر استعمال دیہی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
تھراد کی خواتین کی محنت کا تحفہ
ملاقات کا ایک خاص پہلو وہ شال تھی جو شنکر چودھری نے وزیر اعظم مودی کو پیش کی۔ یہ شال گجرات کے تھراد کے شیونگر علاقے کی خواتین کاریگروں نے ہاتھ سے تیار کی ہے۔ شنکر چودھری کے مطابق، اسے تھراد کی خواتین نے انتہائی لگن اور محنت سے تیار کیا ہے۔ انہوں نے اسے محض ایک تحفہ نہیں بلکہ مقامی خواتین کی صلاحیت، ہنر اور خود انحصار بننے کی کوششوں کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے جس اپنائیت کے ساتھ شال کو قبول کیا، وہ گجرات کی خواتین کے لیے فخر کی بات ہے۔
بغیر چھپے ڈیزائن کے تیار ہوتی ہے صوف کڑھائی
اس شال کی سب سے خاص بات اس پر کی گئی روایتی صوف کڑھائی ہے۔ عام طور پر کپڑے پر ڈیزائن پہلے سے بنا یا چھپا ہوتا ہے، لیکن صوف کڑھائی میں ایسا نہیں کیا جاتا۔ کاریگر کپڑے کے دھاگوں کو گنتے ہوئے اپنی سمجھ، تجربے اور ہاتھ کے ہنر کی مدد سے ڈیزائن تیار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس قسم کی کڑھائی میں کاریگر کی مہارت اور باریک بینی کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ہندسی اشکال اور روایتی نمونوں سے تیار کی جانے والی یہ دست کاری گجرات کی قدیم بُنائی اور کڑھائی کی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
منتظمین کے مطابق، اچھی فلم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احساسات اور…
ایشا نے اپنے بھائی اور ریلائنس جیئو کے چیئرمین آکاش امبانی کی محنت کا بھی…
بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…
پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…
والٹز کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پریلا آگے بڑھے اور…
یہ اعزاز 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے…