قومی

GST Cut to Boost Access and Growth in Indian Pharma: جی ایس ٹی کی شرح میں کٹوتی سے ہندوستانی فارما مارکیٹ میں ہوگی توسیع، عوام کو بھی ہوگا فائدہ

بھارت کی دوا سازی کی صنعت ایک نئے ترقیاتی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کی بنیاد حال ہی میں کی گئی جی ایس ٹی اصلاحات ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد زندگی بچانے والی دواؤں اور صحت کی خدمات کو زیادہ سستی اور عوامی رسائی کے قابل بنانا ہے۔ ای وائی انڈیا کے ٹیکس پارٹنر سریش نیر کے مطابق ’’جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے دوا سازی کے شعبے میں ٹیکس کی شرح میں کی گئی تبدیلی صحت کی سہولیات کو عام کرنے میں ایک انقلابی قدم ہے۔ تمام دواؤں پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی سطح تک لانا اور 36 اہم زندگی بچانے والی دواؤں کو مکمل طور پر جی ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنا مریضوں کے اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرے گا اور ضروری علاج تک رسائی کو بہتر بنائے گا۔‘‘

جی ایس ٹی کونسل کے 56ویں اجلاس میں دو نرخوں کا نظام اپنانے کی منظوری دی گئی 18 فیصد معیاری اور 5 فیصد رعایتی شرح، جب کہ اہم صحت اور زندگی بیمہ مصنوعات کو مکمل چھوٹ دی گئی اور طبی آلات کی قیمتوں پر جی ایس ٹی میں کمی کی گئی۔ یہ اقدام خاص طور پر کینسر اور نایاب بیماریوں کے سستے علاج میں مددگار ثابت ہوگا۔ روچ فارما انڈیا کی ایم ڈی اور سی ای او راجی مہدوان نے کہا کہ ’’یہ ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک گیم چینجر ہے۔ مریضوں کے لیے یہ محض کوئی حکومتی پالیسی نہیں بلکہ ایک امید کی کرن ہے۔‘‘

کینسر کی اہم دوائیں ہوئیں جی ایس ٹی سے مستثنیٰ

روچ کی مہنگی کینسر اور نایاب بیماریوں کی دوائیں جیسے کہ ایٹیزولیزوماب، اوبینوٹوزوماب، اور رِسڈیپلام جیسی دوائیں اب جی ایس ٹی سے مکمل مستثنیٰ ہونے کے باعث زیادہ سستی ہوں گی۔ اسی طرح دیگر بین الاقوامی فارما کمپنیوں کی دوائیں بھی سستی ہوں گی، جس سے ان تک عوام کی رسائی بہتر ہوگی۔ مارکیٹ ریسرچ فرم فارما ٹریک کے مطابق اگست 2025 تک بھارتی دوا ساز مارکیٹ کا حجم 2.32 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے، جہاں ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کینسر کے علاج میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ خاص طور پر کینسر کے علاج کی طلب 19.7 فیصد بڑھ چکی ہے، جو جی ایس ٹی میں کمی کی وجہ سے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

فارماٹریک کے ایک تجزیہ کار نے کہا کہ ’’کم قیمتوں اور مریضوں کی مدد کے پروگراموں سے نہ صرف قیمتیں کم ہوں گی بلکہ کم آمدنی والے طبقات تک دوائیں پہنچانا بھی آسان ہوگا۔‘‘ تاہم کچھ ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ کمپنیوں کو اپنی منافع کی شرح کم ہونے کا خدشہ ہے کیوں کہ ان پٹ مال پر ابھی بھی 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہے، جب کہ تیار مصنوعات پر 5 فیصد جی ایس ٹی ہے، جو منافع پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود صنعت میں مجموعی طور پر خوشگوار ماحول ہے۔ اگست میں دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں اور ویکسین کے شعبوں میں خاصی ترقی ہوئی ہے۔ 22 ستمبر 2025 سے نئی جی ایس ٹی شرحیں نافذ ہونے کے بعد دوا ساز کمپنیاں اپنی قیمتوں، رسائی کے پروگراموں اور نئی مارکیٹوں کو خاص طور پر دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

7 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

7 hours ago