نئی دہلی: مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کانگریس پارٹی اور اس کے سینئر رہنما جے رام رمیش پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (India-EU FTA) پر کانگریس کا ردعمل ’’انگور کھٹے ہیں‘‘ کی کہاوت کی عملی مثال ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے نہ صرف بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے فیصلے کیے بلکہ چین کے ساتھ ایف ٹی اے اور آر سی ای پی (RCEP) میں شامل ہونے جیسے خطرناک اقدامات پر بھی غور کیا، جو ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے۔
جے رام رمیش کے بیان پر سخت ردِعمل
پیوش گوئل نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے 2006 میں بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے پر بات چیت شروع کی، 2007 میں اسے باضابطہ لانچ کیا، مگر 2013 میں بغیر کسی نتیجے کے اسے ترک کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے اور کانگریس حکومت میں نہ تو فیصلہ سازی کی جرأت تھی اور نہ ہی ملک کے مفاد میں مضبوط اقدامات کرنے کا حوصلہ۔ گوئل نے کہا: ’’یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے انگور نہ ملنے پر کہا جائے کہ انگور کھٹے ہیں۔ کانگریس اور یو پی اے حکومتیں خوف کا شکار رہیں اور کوئی بڑا فیصلہ نہیں لے سکیں۔ جے رام رمیش کو تو ملک میں ترقی مخالف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جب وہ ماحولیات کے وزیر تھے تو انہوں نے ملک کی ترقی کے سفر کو روکنے کا کام کیا۔‘‘
چین کے ساتھ ایف ٹی اے پر کانگریس کی سخت تنقید
پیوش گوئل نے کانگریس سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ آخر انہوں نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر غور کیسے کیا؟ انہوں نے کہا کہ آر سی ای پی دراصل بھارت اور چین کے درمیان ایک طرح کا ایف ٹی اے تھا، جس میں شامل ہونا بھارتی صنعت اور معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’’میں کانگریس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے آر سی ای پی میں بھارت کو شامل کرنے کا خیال کیسے کیا؟ یہ بھارت کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی، جس کا جواب کانگریس کو عوام کے سامنے دینا ہوگا۔‘‘ پیوش گوئل نے کانگریس حکومت کے دور میں جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ کیے گئے ایف ٹی اے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے بھارت کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا بلکہ ان ممالک سے درآمدات دوگنی ہو گئیں جبکہ بھارت کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ گوئل نے کہا: ’’کانگریس کے دور میں جو ایف ٹی اے کیے گئے وہ اتنے کمزور تھے کہ بھارت کے مفادات کا تحفظ نہیں ہو سکا۔ اس کے برعکس موجودہ حکومت نے ایسے متوازن اور مضبوط ایف ٹی اے کیے ہیں جن کے تحت بھارت کی 99 فیصد برآمدات پر زیرو ڈیوٹی ہوگی۔ ہم نے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ اپنے شرائط پر معاہدے کیے ہیں، نہ کہ ان ممالک کے ساتھ جو ہماری صنعت سے مقابلہ کرتے ہوں یا جہاں مزدوری سستی ہو۔‘‘
راہل گاندھی کے بیان پر بھی سخت ردعمل
پیوش گوئل نے راہل گاندھی کے اس بیان پر بھی سخت ردِعمل دیا جس میں انہوں نے بھارتی معیشت کو ’’مردہ‘‘ قرار دیا تھا۔ گوئل نے کہا کہ آج بھارت دنیا کی تیز ترین ترقی کرتی بڑی معیشت ہے، جہاں ترقی کی شرح 7 سے 8 فیصد کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آج دنیا کے کسی بھی بڑے ملک کی معیشت بھارت کی رفتار سے ترقی نہیں کر رہی۔ یورپی یونین کے کمشنر اور یورپی کونسل کے صدر نے خود بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ پوری دنیا بھارت کے ساتھ شراکت داری کے لیے بے تاب ہے۔‘‘ مرکزی وزیر نے موجودہ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے باہر آ چکے ہیں، اسٹارٹ اپس کے ذریعے نوجوان روزگار دینے والے بن رہے ہیں، انفراسٹرکچر میں زبردست توسیع ہو رہی ہے اور عوام کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس اور جی ایس ٹی میں کمی، نئی تعلیمی پالیسی، ہنر مندی کے پروگرام اور خود انحصاری کی مہم ملک کو تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے۔
کانگریس کی منفی سوچ پر تنقید
پیوش گوئل نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کی ترقی کو منفی نظر سے دیکھتی ہے اور ملک کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کانگریس کی منفی ذہنیت نے دہائیوں تک بھارت کو پیچھے رکھا، لیکن اب ملک تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ آج کوئی بھی سمجھدار بھارتی شہری کانگریس کی باتوں میں آنے والا نہیں۔‘‘ پیوش گوئل کے اس سخت بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے کو لے کر سیاسی محاذ پر تکرار مزید تیز ہو گئی ہے۔ جہاں حکومت اسے بھارت کی بڑی سفارتی اور تجارتی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دور کے معاہدے بھارت کے قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ کیے جا رہے ہیں اور یہی ملک کی مضبوط اور خودمختار معیشت کی بنیاد ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…