مرکزی وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ ڈیزائن لنکڈ انسینٹو (DLI) اسکیم کے تحت 23 نئے چِپ ڈیزائن منصوبوں کو منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ منصوبے ملک کے اندر سیمی کنڈکٹر ڈیزائن ایکو سسٹم کو تقویت دینے اور مقامی اسٹارٹ اپس و ایم ایس ایم ایز کو عالمی معیار پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔
مختلف ایپلی کیشنز کے لیے جدید چِپس
منظور شدہ منصوبوں میں نگرانی کے کیمروں، اسمارٹ انرجی میٹرز، دفاعی سازوسامان، اسپیس ٹیکنالوجی اور صنعتی آٹومیشن کے لیے تیار کی جانے والی چِپس شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق، اس اقدام سے ملک میں نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ برآمدات کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
72 کمپنیوں کو جدید EDA ٹولز تک رسائی
حکومت نے 72 کمپنیوں کو انڈسٹری گریڈ الیکٹرانک ڈیزائن آٹومیشن (EDA) ٹولز فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، تاکہ ڈیزائن کے عمل کو تیز کیا جا سکے اور عالمی معیار کے مطابق چِپس تیار کی جا سکیں۔
Vervesemi Microelectronics کا نمایاں کردار
منظور شدہ کمپنیوں میں Vervesemi Microelectronics خاص اہمیت رکھتی ہے، جو 2017 میں بنگلورو میں قائم ہونے والی ایک فیب لیس سیمی کنڈکٹر کمپنی ہے۔ یہ کمپنی خود چِپس تیار کرنے کے بجائے ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ پر توجہ دیتی ہے اور مینوفیکچرنگ کا کام تیسرے فریق کی فاؤنڈریز کے ذریعے کراتی ہے۔
Vervesemi کے جاری منصوبے
کمپنی اس وقت متعدد اہم شعبوں کے لیے انٹیگریٹڈ سرکٹس (ICs) تیار کر رہی ہے، جن میں شامل ہیں:
ویئنگ اسکیل اور برج سینسر کے لیے ASIC — نمونے 2025 کے آخر تک
اسمارٹ انرجی میٹرنگ کے لیے ASIC — نمونے 2025 کے آخر تک
چھوٹے موٹروں (پنکھے، آلات) کے لیے BLDC کنٹرولر ASIC — 2026
برقی گاڑیاں، ڈرونز اور صنعتی آٹومیشن کے لیے موٹر کنٹرول ASICs — 2026
ایرو اسپیس اور ایویونکس کے لیے ڈیٹا ایکوزیشن ASICs — 2026 (انجینئرنگ نمونے)
سی ای او کا بیان
کمپنی کے بانی و سی ای او راکیش ملک نے کہا: ’’یہ پیش رفت بھارت کے سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ ہم ہائی پرفارمنس، میڈ اِن انڈیا آئی سیز کے ذریعے نہ صرف درآمدی انحصار کم کر رہے ہیں بلکہ دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ بھارت عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں قیادت کر سکتا ہے۔‘‘
مرکزی حکومت کا وسیع تر سیمی کنڈکٹر مشن
یہ اقدام حکومت کے بڑے چِپ میکنگ مشن کا حصہ ہے، جس میں ڈیزائن اور پیداوار دونوں پر یکساں زور دیا جا رہا ہے۔
مزید چار مینوفیکچرنگ منصوبوں کی منظوری
اس سے قبل رواں ماہ مرکزی کابینہ نے چار نئے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ منصوبوں کی بھی منظوری دی تھی۔ ان میں دو اڑیسہ، ایک آندھرا پردیش اور ایک پنجاب میں قائم کیے جائیں گے۔
مجموعی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع
ان نئے منصوبوں سمیت ملک میں سیمی کنڈکٹر کے 10 بڑے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں، جن پر کل ₹1.6 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری ہوگی۔ ان سے ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اہم کمپنیوں کے منصوبے
نئے منظور شدہ مینوفیکچرنگ یونٹس میں SiCSem، Continental Device India Pvt. Ltd (CDIL)، 3D Glass Solutions Inc، اور Advanced System in Package (ASIP) Technologies شامل ہیں۔ ان منصوبوں پر تقریباً ₹4,600 کروڑ لاگت آئے گی اور 2,000 سے زائد ہنر مند افراد کو براہِ راست جبکہ مزید افراد کو بالواسطہ روزگار ملے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کاک پٹ میں پیش آنے والی جھڑپ کے دوران شریک پائلٹ نے پائلٹ پر چاقو…
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی…
چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر میں ہتھیار چھوڑ کر مرکزی دھارے میں واپس آنے والے 210…
سپریم کورٹ نے 2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں سزائے…
شریئس ایئر کی کپتانی میں ٹیم انڈیا پاکستان کے خلاف اپنے سابقہ ریکارڈ کو برقرار…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا…