نئی دہلی :مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی فروخت سے متعلق اہم نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی یوزر کے لیے عام پٹرول پمپوں سے ایندھن خریدنے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام ابتدائی طور پر 90 دن کے لیے نافذ کیا گیا ہے تاکہ عام یوزر کے لیے ایندھن کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے اور ذخیرہ اندوزی یا غیر ضروری خریداری کو روکا جا سکے۔
حکومت نے یہ فیصلہ کیوں لیا؟
حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر دباؤ بڑھا ہے۔ اس دوران تھوک (بلک) اور ریٹیل قیمتوں میں نمایاں فرق پیدا ہو گیا، جس کے نتیجے میں بڑے صنعتی اور تجارتی یوزر نے اپنے روایتی بلک سپلائی مراکز کے بجائے عام پٹرول پمپوں سے بڑی مقدار میں ڈیزل خریدنا شروع کر دیا۔ اس سے بعض علاقوں میں عام یوزرکے لیے ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
نئے قوانین کے مطابق کیا بدلا؟
حکومت کے حکم کے تحت اب صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی یوزر عام ریٹیل پٹرول پمپوں سے پٹرول یا ڈیزل نہیں خرید سکیں گے۔ انہیں اپنی ضرورت کا ایندھن صرف بلک سیل پوائنٹس یا اپنے کنزیومر پمپوں کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا۔ یہ پابندی 90 دن تک نافذ رہے گی، تاہم حکومت ضرورت کے مطابق اس میں توسیع یا تبدیلی کر سکتی ہے۔
ایک دن میں کتنا ڈیزل خریدا جا سکتا ہے؟
نئے ضوابط کے تحت کسی بھی مشتبہ خریدار یا گاڑی کو ایک پٹرول پمپ سے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل فروخت کیا جا سکے گا۔ اس سے زیادہ مقدار میں ڈیزل عام پمپ سے نہیں دیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد بڑے پیمانے پر خریداری اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی پر روک لگانا ہے۔
ڈیزل فروخت کے لیے نئی شرائط
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ڈیزل صرف گاڑی کے اصل فیول ٹینک یا پٹرولیم اینڈ ایکسپلوسوز سیفٹی آرگنائزیشن(پی ای ایس او) سے منظور شدہ خصوصی کنٹینرز میں ہی فراہم کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ پمپ سے خریدا گیا ڈیزل دوبارہ منافع کے لیے فروخت کرنا ممنوع ہوگا۔
خلاف ورزی پر سخت کارروائی
اگر کوئی فرد، ادارہ یا پٹرول پمپ ڈیلر ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت قانونی اور تعزیری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ حکومت نے ریاستی انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت بھی دی ہے۔
عام یوزر کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
حکومت کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد عام شہریوں کو متاثر کرنا نہیں بلکہ بڑے خریداروں کی غیر معمولی خریداری کو روکنا ہے۔ دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کے عام مالکان کی روزمرہ ایندھن خریداری پر اس فیصلے کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
اہم نکات ایک نظر میں:
صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی یوزرعام پٹرول پمپوں سے ایندھن نہیں خرید سکیں گے۔ پابندی ابتدائی طور پر 90 دن کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ ایک یوزر یا گاڑی کو روزانہ زیادہ سے زیادہ 200 لیٹر ڈیزل فروخت کیا جا سکے گا۔ خریدا گیا ڈیزل دوبارہ فروخت کرنا ممنوع ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ عام یوزر کی معمول کی ایندھن خریداری متاثر نہیں ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…