صدر جمہوریہ دروپدی مرمو۔
نئی دہلی: یوم آزادی کے قبل شام صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز ملک سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین میں چار اقدار کا ذکر ہے، یہ چار ستون ہیں جو ہماری جمہوریت کو مضبوط رکھتے ہیں۔ یہ اقدار ہیں انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت۔ یہ ہماری تہذیب کے ایسے اصول ہیں، جنہیں ہم نے جدوجہد آزادی کے دوران دوبارہ زندہ کیا۔
حکومت کی کامیابیوں اور اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے دروپدی مرمو نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.5 فیصد کے ساتھ ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ عالمی معیشت میں موجود مسائل کے باوجود ملکی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی پر کنٹرول بنا ہوا ہے۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ تمام اہم اشارے معیشت کی مضبوط حالت کو ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کے لیے کئی فلاحی اسکیمیں چلا رہی ہے۔ جو لوگ غربت کی لکیر سے اوپر تو آ گئے ہیں لیکن مستحکم پوزیشن میں نہیں ہیں ان کو بھی ایسی اسکیموں کا تحفظ موجود ہے تاکہ وہ دوبارہ غربت کی لکیر سے نیچے نہ چلے جائیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ وادی کشمیر میں ریل رابطے کا آغاز ایک بڑی کامیابی ہے۔ وادی کا باقی ہندوستان کے ساتھ ریل رابطہ خطے میں تجارت اور سیاحت کو فروغ دے گا اور نئے اقتصادی امکانات کے دروازے کھولے گا۔ کشمیر میں انجینئرنگ کا یہ غیر معمولی کارنامہ ہمارے ملک کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ حکومت یہ مانتی ہے کہ زندگی کی بنیادی سہولیات پر شہریوں کا حق بنتا ہے۔ ’جل جیون مشن‘ کے تحت دیہی گھروں میں نَل سے جل پہنچانے میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی نوعیت کی دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ کیئر اسکیم ’آیوشمان بھارت‘ کے تحت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کوششوں کے نتیجے میں ہیلتھ سیکٹر میں ہم انقلابی تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 55 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے یہ اسکیم 70 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو اس اسکیم کی سہولت دستیاب کرائی ہے، چاہے ان کی آمدنی کتنی بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس ڈیجیٹل دور میں یہ فطری ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ ترقی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہوئی ہے۔ تقریباً تمام گاؤں میں 4جی موبائل کنیکٹیویٹی دستیاب ہے۔ باقی چند ہزار گاؤں میں یہ سہولت جلد ہی پہنچا دی جائے گی۔ اس سے ڈیجیٹل پیمنٹ ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانا ممکن ہو پایا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگی کے میدان میں ہندوستان مختصر وقت میں ہی دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس سے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کو بھی فروغ ملا ہے، اور ہدف شدہ مستحقین تک فلاحی ادائیگیوں کو بغیر کسی رکاوٹ اور لیکیج کے پہنچنا یقینی ہو رہا ہے۔ دنیا میں ہونے والے کل ڈیجیٹل لین دین میں سے آدھے سے زیادہ ہندوستان میں ہوتے ہیں۔ حکومت نے ملک کی AI صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے انڈیا MI مشن شروع کیا ہے۔ اس مشن کے تحت ایسے ماڈل تیار کیے جائیں گے جو ہندوستان کی مخصوص ضروریات کو پورا کریں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…