مالدیپ کی محمد معز حکومت کی وزیر مریم شیونا نے ہندوستان اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ایک متنازعہ بیان دیا تھا۔ حکومت ہند نے اس بارے میں سخت موقف اختیار کیا تھا اور حکومت مالدیپ سے اپنا اعتراض ظاہر کیا تھا۔ وزیر کے متنازعہ ریمارکس پر ہنگامہ آرائی کے بعد مالدیپ اب بیک فٹ پر ہے۔مالدیپ کی حکومت نے اپنے وزیر کے متنازعہ بیان سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ مالدیپ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ توہین آمیز تبصرے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ مالدیپ کی حکمران جماعت پروگریسو پارٹی آف مالدیپ (پی پی ایم) کے رہنما زاہد رمیز نے بھی فیس بک پر پوسٹ کرکے ہندوستان کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔
مالدیپ کے حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کو جمہوری اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ اس طرح سے کیا جانا چاہیے کہ نفرت اور منفیت نہ پھیلے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کا اس طرح استعمال نہیں ہونا چاہیے جس سے مالدیپ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان تعلقات متاثر ہوں۔مالدیپ کی حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ یہ اس وزیر کا ذاتی بیان ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پی ایم مودی نے حال ہی میں لکشدیپ کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے ایکس پر وہاں سے بہت سی تصاویر پوسٹ کی تھیں۔ جس کے بعد مالدیپ حکومت کی وزیر مریم شیونا نے پی ایم مودی کا مذاق اڑایا۔ اس کے بعد ہندوستان کے لوگوں نے بائیکاٹ مالدیپ کی مہم شروع کی۔جس دن پی ایم نریندر مودی نے لکشدیپ کی تصویریں شیئر کیں، ایکس پر مالدیپ ٹرینڈ ہونے لگا اور بہت سے لوگ مالدیپ کے بجائے لکشدیپ جانے کی بات کرنے لگے۔
بھارت ایکسپریس۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…