مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے ایندھن کی فراہمی پر بڑا اپڈیٹ جاری کیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی، پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پیر کو جاری سرکاری بیان میں پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے بتایا کہ اب ملک بھر میں تقریباً 98 فیصد ایل پی جی بکنگ آن لائن ہو رہی ہے، جس سے تقسیم کا نظام مزید شفاف اور آسان ہو گیا ہے۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی سپلائی معمول کے مطابق ہے اور اتوار کو بھی زیادہ تر ڈسٹری بیوٹرز کھلے رہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
حکومت نے بتایا کہ مارچ 2026 سے اب تک ملک بھر میں 1.28 لاکھ سے زیادہ چھاپے مارے گئے، جن میں 59 ہزار سے زائد گیس سلنڈر ضبط کیے گئے۔ اس کے علاوہ 1,000 سے زیادہ ایف آئی آر درج ہوئیں اور 238 افراد کو گرفتار کیا گیا، جس سے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔ ساتھ ہی عوام کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ایل پی جی بکنگ اور توانائی کی بچت کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت نے پی این جی، الیکٹرک اور انڈکشن کک ٹاپ جیسے متبادل ایندھن کے استعمال کو بھی فروغ دینے کی بات کہی ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ گھریلو ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی 100 فیصد سپلائی برقرار رکھی جا رہی ہے۔ کمرشل ایل پی جی میں اسپتالوں، تعلیمی اداروں، فارما، اسٹیل اور زرعی شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مہاجر مزدوروں کے لیے 5 کلو کے سلنڈرز کی فراہمی بھی بڑھائی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق ریفائنریز مکمل صلاحیت سے کام کر رہی ہیں اور پٹرول و ڈیزل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ گھریلو ایل پی جی کی پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ حکومت نے صارفین کو راحت دیتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا بھی اعلان کیا ہے۔ قدرتی گیس کے شعبے میں بھی تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 4.32 لاکھ نئے پی این جی کنکشن فعال کیے گئے ہیں، جبکہ 4.75 لاکھ سے زائد نئے صارفین نے درخواست دی ہے۔ 31,700 سے زیادہ صارفین نے ایل پی جی چھوڑ کر پی این جی اختیار کیا ہے، جسے صاف توانائی کی سمت ایک بڑا قدم مانا جا رہا ہے۔