بھوٹان کی شنتافو جھیل پھٹنے (GLOF) کی خبر سامنے آئی ہے، جس سے بھارت کی جانب بہنے والے پانی میں اچانک اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت ہند نے مغربی بنگال اور آسام کے کچھ علاقوں کے لیے خصوصی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ سنکوش ندی کی سطح آب میں اچانک بھاری اضافہ ہوسکتا ہے۔ آسام کے دھوبری ضلع کے علاوہ شمالی بنگال کے کچھ علاقوں، جن میں دارجلنگ کی پہاڑیاں اور علی پور دوار اور جلپائی گوڑی اضلاع شامل ہیں، میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعرات کی شام بھوٹان کے ضلع گاسا کے لونگو (لایا گیوگ) میں وکیلا پہاڑ کے نیچے واقع شنتافو جھیل میں پیش آیا۔ دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے اور متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ شنتافو جھیل بھوٹان کی ان 17 جھیلوں میں سے ایک ہے جنہیں ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ نیشنل سینٹر فار ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی (NCHM) کے ایک افسر نے بتایا کہ تختسیماکھانگ میں پانی کی سطح پر نظر رکھنے والا ایک اسٹیشن موجود ہے، لیکن ابتدائی رپورٹ موصول ہونے کے وقت وہاں کوئی الرٹ جاری نہیں ہوا تھا۔ جھیل پھٹنے کا واقعہ کتنا بڑا ہے اور اس کا نشیبی علاقوں پر کیا اثر پڑے گا، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والا سیلاب (GLOF) کیا ہے؟
جب گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیل میں جمع پانی اچانک باہر نکل آتا ہے، اکثر کسی قدرتی رکاوٹ کے ٹوٹنے یا کمزور پڑنے کی وجہ سے، تو اسے GLOF کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کا تیز بہاؤ پہاڑی وادیوں سے گزرتا ہے، جو اپنے ساتھ ملبہ بھی بہا کر لاتا ہے اور بستیوں، سڑکوں، پلوں اور کھیتوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ شنتافو جھیل بھوٹان کے پوناتسانگچو ندی کے طاس میں واقع ہے۔ بھارت میں داخل ہونے کے بعد اس ندی کو سنکوش ندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی لیے جھیل سے اچانک پانی خارج ہونے کا واقعہ دریا کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
بھارت نے سیلاب کے حوالے سے خصوصی ایڈوائزری جاری کی
اس صورتحال کے پیش نظر بھارت نے خبردار کیا ہے کہ پوناتسانگچو ندی کے بالائی علاقوں میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) آنے کے باعث مغربی بنگال کے علی پور دوار ضلع اور آسام کے دھوبری ضلع میں پانی کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے۔ حکام نے دارجلنگ کی پہاڑیوں، علی پور دوار اور جلپائی گوڑی اضلاع سمیت شمالی بنگال کے کئی علاقوں میں الرٹ جاری کیا ہے۔ مغربی بنگال کے کوچ بہار ضلع میں توفان گنج اور بکشی ہاٹ میں، جو آسام کی سرحد کے قریب سنکوش ندی کے کنارے واقع ہیں، NDRF اور SDRF کی ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مقامی لوگوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق سیلابی پانی چھ سے آٹھ گھنٹوں کے اندر بھارت-بھوٹان سرحد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دونوں اضلاع کے حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور ضروری احتیاطی اقدامات کریں۔
وزیر نے لوگوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی
مغربی بنگال کے وزیر جنگلات اور کمارگرام کے رکن اسمبلی منوج کمار اراؤں نے علی پور دوار ضلع میں سنکوش ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں اراؤں نے خبردار کیا کہ اگلے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر کمارگرام میں ندی کی سطح آب میں بھاری اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے احتیاطی طور پر وہاں سے منتقل ہونے اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔ سنکوش ندی بھوٹان سے بھارت میں داخل ہوتی ہے اور شمالی مغربی بنگال اور اس سے متصل آسام کے کئی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کا اہم ذریعہ ہے۔ ندی کی سطح آب میں اچانک اضافہ ہونے سے اس کے کنارے آباد بستیوں، مویشیوں، کھیتوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سیلابی پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ دریا کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو لاحق ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات میں ایمان مزاری اور ہادی علی…
دہلی کے تاجروں کی تنظیم نے کانگریس کی یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں…
بارش کے ساتھ چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں نے دہلی-این سی آر کے موسم کا مزاج…
وزیر اعظم نریندر مودی آج گجرات سے پی ایم کسان سمان ندھی کی 24ویں قسط…
طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…
36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…