احمد آباد، گجرات: جرمنی کے سرکردہ صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں نے بھارت اور جرمنی کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، مشترکہ جمہوری اقدار اور تعاون کے بڑھتے ہوئے مواقع اس شراکت داری کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اختراعات، ایرو اسپیس، دفاع، مینوفیکچرنگ اور پائیدار نقل و حمل جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ایئر بس کے سی ای او کا بیان
ایئر بس کے سی ای او مائیکل شویل ہورن نے بھارت اور جرمنی کو موجودہ عالمی منظرنامے میں “قدرتی شراکت دار” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد اعتماد اور مشترکہ جمہوری اقدار پر قائم ہے۔ ان کے مطابق اختراعات، ایرو اسپیس اور دفاع جیسے مستقبل سے وابستہ شعبے ایسے میدان ہیں جہاں دو طرفہ تعاون مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
جرمن مہارت اور بھارتی وسعت کا امتزاج
گیزیکے اینڈ ڈیورینٹ کے سی ای او ڈاکٹر رالف ونٹرگیرسٹ نے کہا کہ اگر جرمن مہارت کو بھارت کی وسعت اور ہنرمندی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو دونوں ممالک عالمی سطح پر انقلابی حل پیش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہی تکمیلی خصوصیات اس شراکت داری کو طویل مدتی کامیابی کی طرف لے جائیں گی۔
وزیرِ اعظم مودی کی قیادت کی ستائش
پِلز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کی ڈائریکٹر سوزانے رینیٹ کنشرٹ نے وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے بہت کچھ سیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے بھارت کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے، جس کی بدولت ملک کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔
مشینری اور آلات کے شعبے میں تعاون
یورپ کی سب سے بڑی مکینیکل انجینئرنگ انڈسٹری ایسوسی ایشن وی ڈی ایم اے کے صدر اور ممتاز جرمن صنعتکار برٹرم کاولاتھ نے ہند۔جرمن تعاون کی صلاحیت کے بارے میں وزیراعظم مودی کے درست اندازے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جرمن مشینری ساز اداروں اور بھارتی آلات تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری عالمی آلاتی منڈی میں نمایاں ترقی لا سکتی ہے۔
پائیدار نقل و حمل میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت
ماہلے گروپ کے چیئرمین اور سی ای او آرنڈ فرانز نے پائیدار نقل و حمل کے میدان میں بھارت کی تیز رفتار ترقی کی تعریف کی اور کہا کہ بھارت کئی بڑی معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ای 20 فیول مکسچر اور بایوفیولز کے تیز نفاذ کو سبز منتقلی کے لیے ایک عملی مثال قرار دیا، جس میں ایتھنول، ہائیڈروجن اور الیکٹریفیکیشن جیسے متعدد راستے شامل ہیں۔ آرنڈ فرانز نے اس بات پر بھی اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت آٹو موبائل اور آٹو کمپوننٹس کے شعبے میں ایک بڑا برآمد کنندہ بن سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت میں اس کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔
ہند۔جرمن سی ای اوز فورم اور تجارتی اعداد و شمار
وزیرِ اعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے احمد آباد میں منعقد ہند۔جرمن سی ای اوز فورم کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ کاروباری سربراہان سے ملاقات کی۔ اہم بات یہ ہے کہ 2024-25 میں بھارت اور جرمنی کے درمیان اشیا اور خدمات کی دو طرفہ تجارت 51.23 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ جرمنی یورپی یونین میں بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بھارت کی یورپی یونین کے ساتھ کل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جرمنی کے ساتھ ہے۔
سرمایہ کاری اور خدمات کے شعبے میں اضافہ
مالی سال 2024-25 میں ہند۔جرمن خدماتی تجارت میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 16.65 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ جرمنی بھارت میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کے لحاظ سے نویں نمبر پر ہے، جہاں اپریل 2000 سے جون 2025 تک مجموعی ایف ڈی آئی 15.40 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ صرف 2024-25 میں جرمن سرمایہ کاری 469 ملین امریکی ڈالر رہی۔
بھارت ایکسسپریس اردو۔
پپو یادو نے مرکزکی حکومت اور بہار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا…
ہارٹ اٹیک کی علامات اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں۔ ان میں سینے میں درد یا دباؤ،…
شبھمن گل نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں 110 رنز کی…
انتہائی سنگین صورتحال کے باوجود کیپٹن اسمت مچھّار نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے طیارے…
نروپم نے کہا کہ اگر ملک کو محفوظ رکھنا ہے اور تمام شہریوں کی سلامتی…
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ…