احمد آباد: اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اڈانی گلوبل انڈولوجی کانکلیو کے افتتاحی سیشن میں ہندوستانی تہذیبی علم کے تحفظ اور اسے عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’’بھارت نالج گراف‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وہ انڈولوجی مشن کیلئے ابتدائی طور پر 100 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کریں گے۔ یہ ڈیجیٹل پراجیکٹ ہندوستانی تہذیب، فلسفہ، سائنس، زبانوں اور ثقافتی ورثے کو مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ کرنے اور عالمی تحقیق سے جوڑنے کا ایک انقلابی فریم ورک قرار دیا جا رہا ہے۔
اڈانی گروپ کی جانب سے وزارتِ تعلیم کے ’انڈین نالج سسٹمز‘ (آئی کے ایس) کے اشتراک سے منعقدہ یہ تین روزہ عالمی انڈولوجی کانکلیو 20 سے 22 نومبر 2025 تک احمد آباد کے اڈانی کارپوریٹ ہاؤس میں جاری ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں سکڑتے ہوئے انڈولوجی ڈیپارٹمنٹس کے مقابل ہندوستان کے علمی نظام کو دوبارہ مستحکم کرنا اور اسے مستند ہندوستانی نقطۂ نظر کے ساتھ عالمی دانش گاہوں تک پہنچانا ہے۔ کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے گوتم اڈانی نے کہا کہ “یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں ’بھارت نالج گراف‘ کے قیام اور اس مشن میں شامل محققین و ماہرین کی معاونت کے لیے 100 کروڑ روپے کی بنیادی رقم دینے کا اعلان کررہا ہوں۔ یہ ہماری تہذیبی ذمہ داری کی ادائیگی ہے۔”
اس موقع پر مہمانِ خصوصی سوامی ایویمکتیشورانند سرسوتی، جیوتر مٹھ کے جگد گرو شنکراچاریہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ’’وشو گرو‘‘ یعنی عالمی رہنما بننے کے اپنے عہد کو آج حقیقی معنوں میں عملی تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “میں نے منصب سنبھالتے وقت کہا تھا کہ میرا کردار تب ہی کامیاب سمجھا جائے گا جب ہندوستان وشو گرو بنے گا۔ آج اڈانی جی کا قدم اس خواب کی سمت ایک بڑی پیش رفت ہے۔” گوتم اڈانی نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ اگر کوئی تہذیب اپنے علمی اور جذباتی ڈھانچے کا تحفظ نہ کرے تو انسانی طرزِ فکر آہستہ آہستہ مشین کے الگورتھم کے سرد منطق کے آگے جھک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں افراد اپنی شناخت اور ثقافتی احساس سے محروم ہو جاتے ہیں۔
نیٹ ایجوکیشن پالیسی (این ای پی 2020) کے تحت قائم آئی کے ایس کا بنیادی مقصد قدیم ہندوستانی علمی ورثے کو موجودہ تعلیمی نظام میں شامل کرنا، بین الشعبہ تحقیق کو فروغ دینا اور روایتی علم کو انجینئرنگ، ماحولیات، لسانیات، پالیسی میکنگ اور صحت جیسے جدید شعبوں میں قابلِ عمل صورت میں استعمال کرنا ہے۔
انڈولوجی نے صدیوں تک دنیا میں ہندوستان کے بارے میں علمی فہم پیدا کیا اور زبان، فلکیات، ریاضی، حکومت، ادب اور طب جیسے شعبوں کو متاثر کیا۔ تاہم ادارہ جاتی توجہ کی کمی کے سبب یہ شعبہ بتدریج کمزور ہوتا گیا ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کیلئے اڈانی گروپ اور آئی کے ایس نے پانچ سالہ پروگرام کے ذریعے ملک کے ممتاز اداروں میں 14 پی ایچ ڈی اسکالرز کی معاونت کا منصوبہ بنایا ہے۔ ان کی تحقیق میں پانینیائی گرامر اور کمپیوٹیشنل لسانیات، قدیم نجومی نظام، روایتی طبی ڈھانچے، پائیدار انجینئرنگ اصول، سیاسی فلسفہ، ورثہ مطالعات اور کلاسیکی ادب شامل ہیں۔ ان اسکالرز کا انتخاب آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم اور دیگر ممتاز تحقیقی اداروں کی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
یہ پروگرام ڈیٹا سائنس، سسٹم تھنکنگ اور ملٹی موڈل آرکائیونگ جیسی جدید تکنیک کے ذریعے کلاسیکی علم کو نہ صرف محفوظ کرے گا بلکہ اسے موجودہ علمی دنیا کے لیے معنوی اور قابلِ استعمال بنائے گا۔ یہ منصوبہ ہندوستانی فکر ”وسودھیو کٹمبکم” یعنی ’’دنیا ایک خاندان‘‘ کی روح پر مبنی ہے، جس کا مقصد بھارت کی علمی قیادت اور سافٹ پاور کو مضبوط کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین جنگ ختم کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی کی…
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے کانگریس میں ریاستی صدر کی تبدیلی کی بحث تیز،…
EaseMyTrip بھارت میں ایپل پے کا لانچ پارٹنر بنا، سفر کی بکنگ کے دوران ادائیگی…
اندور میں 2 سے 4 اکتوبر تک بھارتی صحافت میلے کے 18ویں سیزن کا انعقاد،…
ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی رہائش گاہ…