قومی

FSSAI bans use of ‘100 percent’ on food product labeling: کھانے کی مصنوعات کے لیبلنگ پر ’100 فیصد‘ کے استعمال پر پابندی،FSSAI  نے بتائی یہ وجہ

نئی دہلی: فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے پیکیجڈ فوڈ کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فوڈ پیکٹ یا لیبل پر ’100 فیصد‘ اصطلاح استعمال نہ کریں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے صارفین کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز (ایف بی اوز) کو جاری کردہ مشورے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فوڈ پیکٹ، لیبلز اور اشتہارات میں ’100 فیصد‘ جیسے الفاظ استعمال نہ کریں کیونکہ یہ مکمل طور پر مبہم ہیں، اس لیے قواعد کے مطابق ایسے الفاظ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ملک کے اعلیٰ فوڈ ریگولیٹر نے کہا کہ اب کئی کمپنیاں اپنے فوڈ پیکٹوں اور اشتہارات میں ’100 فیصد‘ کے الفاظ ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہی ہیں۔FSSAI نے کہا، ’’اس طرح کی اصطلاحات کے حوالے سے قواعد میں کوئی صاف وضاحت نہیں ہے۔ یہ الفاظ لوگوں کو گمراہ کر سکتے ہیں اور غلط تاثر پیدا کر سکتے ہیں کہ یہ چیز مکمل طور پر درست ہے یا خالص، جو ضروری نہیں ہے۔ اس لیے یہ الفاظ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں۔‘‘

ضابطوں میں نہیں ہے ’100 فیصد‘ کی وضاحت

فوڈ سیفٹی رولز (2018) کے مطابق، FSS ایکٹ، 2006 یا اس کے ضابطوں میں ’100 فیصد‘ کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ FSSAI نے کہا کہ قواعد کے تحت، کوئی بھی کمپنی اپنے اشتہار میں کوئی ایسا بیان یا دعویٰ نہیں کر سکتی جو دوسری کمپنیوں کو برا دکھاتی ہو، اور ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتی جس سے صارفین کو کنفیوژن ہو۔ جو بھی دعویٰ یا معلومات دی جائیں، وہ درست، واضح اور سمجھنے میں آسان ہونی چاہیے، تاکہ صارف صحیح معلومات کو سمجھ سکے اور کوئی گمراہ نہ ہو۔

سو فیصد‘ ٹرم صارفین کو دیتا ہے غلط جانکاری’

’100 فیصد‘ الفاظ کا استعمال، چاہے اکیلا ہو یا کسی اور لفظ کے ساتھ، لوگوں میں یہ غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے کہ چیز مکمل طور پر خالص ہے یا بہترین، جو کہ درست نہیں ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی نے کہا کہ اس طرح کے لفظ کے استعمال سے لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ بازار میں باقی کھانے پینے کی اشیاء اچھی نہیں ہیں یا وہ قواعد پر عمل نہیں کرتی ہیں، جس کی وجہ سے صارفین کو غلط معلومات ملتی ہیں۔

 ضابطوں کے مطابق ہو جوس کا پروڈکشن

فوڈ ریگولیٹری باڈی نے جون 2024 میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا کہ پھلوں کے جوس کا پروڈکشن ضابطوں کے مطابق کیا جائے۔ کمپنیوں کو اپنے پیکٹوں اور اشتہارات سے ’100 فیصد پھل کا رس‘ جیسے دعوے ہٹا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: کشمیر میں بڑا مسئلہ تھا، آرٹیکل 370 ہٹانے سے ختم ہو گیا: سلمان خورشید

اس سے پہلے، FSSAI نے اپریل میں دہلی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ڈابر کا یہ دعویٰ کہ اس کے پھلوں کے مشروبات ’100 فیصد‘ پھلوں سے بنتے ہیں، قوانین کے خلاف ہے۔ یہ صارفین کو گمراہ کرنے والی اصطلاح ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

8 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

8 hours ago