قومی

From leather bound ledgers to digital tablets: چمڑے کے بیگ سے ڈیجیٹل ٹیبلٹ تک… 79 برسوں میں بھارت کا ‘لیجر اکاؤنٹ’ کتنا ہوا تبدیل

آزاد بھارت 80ویں مرکزی بجٹ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ یکم فروری 2026 کو جب وزیر خزانہ نرملا  سیتھارامن (Nirmala Sitharaman) پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے کے لیے کھڑی ہوں گی، تو وہ ایک نئی تاریخ رقم کریں گی۔ وہ مسلسل نویں مرتبہ بجٹ پیش کرنے والی ملک کی پہلی وزیرخزانہ بن جائیں گی۔ لیکن 1947 سے 2026 تک بھارت کے بجٹ نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ یہ سفر صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ غلام بھارت کی روایات کو توڑ کر ’آتم نربھر بھارت‘ کی نئی شناخت قائم کرنے کا بھی ہے۔

انگریزی نشان کو الوداع

بجٹ کی شکل و صورت میں سب سے نمایاں تبدیلی 2019 میں دیکھنے کو ملی۔ دہائیوں تک وزیر خزانہ بجٹ کے دستاویزات چمڑے کے بریف کیس میں لے کر پارلیمنٹ آتے تھے، جو برطانوی دور کی روایت تھی۔ نرملا سیتھارامن نے اس روایت کو توڑتے ہوئے سرخ کپڑے میں لپٹے ہوئے روایتی ’لیجر اکاؤنٹ ‘ کو اپنایا۔ پھر 2021 میں ایک اور بڑی تبدیلی آئی، جب کورونا دور میں بجٹ مکمل طور پر ’پیپر لیس‘ اور ڈیجیٹل ہو گیا۔ اب بجٹ ٹیبلٹ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے اور عام عوام کے لیے ’بجٹ ایپ‘ پر دستیاب ہوتا ہے۔

وقت اور تاریخ، دونوں میں تبدیلی

سال 2016 تک مرکزی بجٹ 28 فروری کو پیش کیا جاتا تھا۔ 2017 میں مودی حکومت نے اس تاریخ کو بدل کر یکم فروری کر دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یکم اپریل (نئے مالی سال) سے پہلے ہی تمام اسکیمیں نافذ کی جا سکیں اور فنڈز جاری ہوں۔اسی طرح 1999 سے پہلے بجٹ شام 5 بجے پیش کیا جاتا تھا، جو برطانوی پارلیمنٹ کے وقت کے مطابق تھا۔ اٹل بہاری واجپائی حکومت کے دور میں وزیرِ خزانہ یشونت سنہا نے اس روایت کو بدل کر بجٹ صبح 11 بجے پیش کرنے کا فیصلہ کیا، جو بھارتی کام کاج کی ثقافت کے زیادہ موافق تھا۔

92 سال پرانی روایت کا خاتمہ

2017 سے پہلے تک ریلوے بجٹ اور عام بجٹ الگ الگ پیش کیے جاتے تھے۔ یہ روایت 1924 سے جاری تھی۔ مودی حکومت نے وویک دیبرائے کمیٹی کی سفارش پر 92 سال پرانی اس روایت کو ختم کر کے ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کر دیا۔ اس فیصلے سے ریلوے میں سیاسی مداخلت کم ہوئی اور اس کی ترقی کو ملک کی مجموعی اقتصادی پالیسی سے جوڑ دیا گیا۔

یکم فروری اتوار، پھر بھی سجے گی پارلیمنٹ؟

اس بار بجٹ سے متعلق ایک دلچسپ سوال کھڑا ہو گیا ہے، کیونکہ یکم فروری 2026 اتوار کے دن پڑ رہا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اشارہ دیا ہے کہ حتمی فیصلہ مناسب وقت پر لیا جائے گا۔ تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قومی مفاد میں پارلیمنٹ تعطیل کے دن بھی چلتی رہی ہے۔2015 اور 2016 میں اس وقت کے وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی نے ہفتہ کے دن بجٹ پیش کیا تھا۔ 2020 میں کووِڈ دور کے دوران اتوار کے دن بھی پارلیمنٹ کی کارروائی ہوئی تھی۔

بدلتی ترجیحات

1947 میں آر کے شن مکھم چٹیّی کی جانب سے پیش کیے گئے پہلے بجٹ میں روٹی، کپڑا اور زراعت بنیادی ترجیحات تھیں، جب کہ آج کا بجٹ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، گرین انرجی، اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل انڈیا پر مرکوز ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ بھارت کس طرح ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت سے جدید عالمی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

37 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

49 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago