ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے کے موقع پر نیشنل اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (NSIC) کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سبھرنسو شیکھر آچاریہ نے اکنامک ٹائمز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایم ایس ایم ای (MSME) یعنی چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتیں بھارت کے ’’وِکسِت بھارت‘‘ وژن کی بنیاد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا ایم ایس ایم ای سیکٹر آج چرخے سے لے کر چندریان تک کا سفر طے کر چکا ہے۔‘‘
بھارت کی ترقی میں ایم ایس ایم ای کا اہم کردار
سبھرنسو آچاریہ کے مطابق گزشتہ 70 برسوں میں ایم ایس ایم ای سیکٹر نے محض دیہی صنعتوں سے آگے بڑھ کر خلائی مشن جیسے اعلیٰ سطحی منصوبوں تک اپنا دائرہ پھیلا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ایم ایس ایم بھارت کی ترقی کے سفر میں ایک جدید، خودکفیل اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘
روزگار کی کنجی: نوجوانوں کو جوڑنے والا شعبہ
انھوں نے بتایا کہ ہر سال تقریباً 1.5 کروڑ طلبا فارغ التحصیل ہوتے ہیں، مگر بڑی صنعتوں میں ملازمت کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ’’ایم ایس ایم ای وہ طاقت ہے جو نوجوانوں کو نہ صرف روزگار دے سکتی ہے بلکہ انھیں ویلیو کریئیٹر بھی بنا سکتی ہے۔‘‘
سرکاری منصوبوں میں فعال شراکت
انھوں نے مزید بتایا کہ این ایس آئی سی مختلف سرکاری اسکیموں جیسے پی ایم وشوَکَرما یوجنا اور پی ایم سواندھی (PM SVANidhi) کا فعال حصہ ہے۔ آچاریہ نے بتایا کہ ایم ایس ایم ایز کے لیے نئی ‘TEAM’ اسکیم کے تحت پانچ لاکھ چھوٹی صنعتوں کو ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں سے کم از کم پچاس فیصد خواتین ہوں گی۔
ہنر اور کاروبار سازی میں انقلاب
انھوں نے کہا کہ MSMEs کی سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔ اس کے حل کے لیے NSIC نے ٹیکنالوجی سینٹرز اور انکیوبیشن لیبس قائم کیے ہیں جہاں نوجوانوں کو جدید صنعتی ٹیکنالوجیز جیسے CNC مشینز، AR/VR، روبوٹکس اور سولر ٹیکنالوجی وغیرہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ سبھرنسو شیکھر نے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان نہ صرف ہنر حاصل کریں بلکہ خود کا کاروبار شروع کریں، بینکوں سے قرض لیں اور پھر NSIC کے ذریعے بازار سے جڑیں۔‘‘
Industry 4.0 کے لیے تیار ہے بھارت
سی ایس آچاریہ نے بتایا کہ NSIC اب انڈسٹری 4.0 کے تقاضوں کے مطابق MSMEs کو جدید تکنیکی سہولیات فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقتی بن سکیں۔ یہ اقدامات MSMEs کی پیداوار، کارکردگی اور مارکیٹ میں موجودگی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ ورلڈ ایم ایس ایم ای ڈے پر ایک پیغام دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’انیسویں صدی یورپ کی تھی، بیسویں صدی امریکہ کی اور اکیسویں صدی بھارت کی ہوگی۔ اور بھارت کو اس مقام تک پہنچانے میں ایم ایس ایم ایز کی کلیدی ذمہ داری ہے۔ یہی ترقی یافتہ بھارت کا سنگ بنیاد ہوں گے۔ یہ بہترین وقت ہے کہ ایم ایس ایم ایز ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…