قومی

سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، بیٹی زیبا رضوان اور داماد رمیز نعمت فیروز پپو قتل سانحہ میں بری، عدالت نے 2 کو قصوروار ٹھہرایا

یوپی کے بلرام پورکے سابق رکن پارلیمنٹ اورسماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈررضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبا رضوان اورداماد رمیزنعمت کوبلرام پورکی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے آج بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بڑی راحت دی ہے۔ بلرام پورضلع کے تلسی پورنگرپنچایت کے سابق فیروزپپوقتل سانحہ میں عدالت نے تینوں کوبری کرتے ہوئے 2 کوقصوروارقراردیا۔ عدالت نے آج جمعہ(7 اگست 2026) کومعراج الحق اور محفوظ کوقتل کرنے کا اصل ملزم مانا ہے اورقصوروارقراردیا ہے۔ دونوں قصورواروں کو سزا منگل (11 اگست، 2026) کو سنائی جائے گی۔ عدالت نے رضوان ظہیرسمیت تینوں ملزمین کوگینگسٹر ایکٹ، 307 آئی پی سی اور302 کے معاملے میں بری کردیا۔
آپ کوبتا دیں کہ فیروزپپوخان کا ان کی رہائش گاہ کے قریب 4 جنوری 2022 کی رات قتل کردیا گیا۔ پولیس نے 6 لوگوں کو نامزد ملزم بنایا تھا۔ ضلع عدالت میں کئی سالوں تک اس معاملے کی سماعت چلتی رہی۔ بلرام پورپولیس نے اس قتل سانحہ میں سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، ان کی بیٹی اورتلسی پوراسمبلی حلقہ سے قسمت آزمانے والی زیبا رضوان اورداماد رمیزنعمت کو قتل کی سازش کرنے کا ملزم بنایا تھا۔ آج ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے رضوان ظہیر، زیبا رضوان اوررمیز نعمت کو بری کردیا، جبکہ معراج الحق اورمحفوظ کوقتل کا ملزم مانا جبکہ ایک ملزم شکیل احمد کی سماعت کے دوران موت ہوگئی تھی۔ شکیل احمد نے ٹرین کے سامنے کود کرخود کشی کرلی تھی۔

قتل کے بعد بڑھ گئی تھی کشیدگی

حملہ آوروں نے فیروزپپوکے سرپرحملہ کیا تھا اوربعد میں گلا ریت دیا تھا اورفرارہوگئے تھے۔ زخمی حالت میں انہیں سی ایچ سی تلسی پورلے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا تھا۔ قتل کے بعد تلسی پورمیں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ 6 دنوں کی جانچ کے بعد اس وقت کے ایس پی ہیمنت کٹیال نے اس قتل سانحہ کا انکشاف کیا تھا۔ 10 جنوری کو پولیس نے سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، ان کی بیٹی زیبا رضوان، داماد رمیز نعمت، معراج الحق عرف ماما، محفوظ اورشکیل کوگرفتارکیا تھا۔ بلرام پورپولیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی لڑائی اورتلسی پور اورتسلی پوراسمبلی سیٹ سے ٹکٹ کی دعویداری کی وجہ سے یہ قتل کیا گیا تھا۔

عدالت سے ہمیں انصاف ملا: رضوان ظہیر

عدالت سے نکلتے ہوئے رضوان ظہیرنے کہا کہ ہمارے اوپرکلنک لگایا تھا، لیکن آج ہمیں انصاف ملا ہے۔ وہیں، زیبا رضوان نے کہا کہ اب کہنے کے لئے کیا بچا ہے۔ ہم لوگ تو 4 سال سے یہی بات کہہ رہے تھے۔ آج سچائی کی جیت ہوئی ہے اورہمیں انصاف مل گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Third BIMSTEC Conference: بِمسٹیک کی روایتی طب، جینیاتی وسائل اور دانشورانہ املاک کے حقوق پر تیسری کانفرنس گوا میں شروع

بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…

8 hours ago

Bharat Express Urdu National Conclave: بزمِ صحافت: نئے بھارت کی بات، اردو کے ساتھ، بھارت ایکسپریس اردو  کا نیشنل کانکلیو

مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…

10 hours ago

Punjab Turban Row: پنجاب میں ’پگڑی‘ پر گھمسان تو یوپی میں کانگریس کی نئی بریگیڈ تیار! جانیے 5 ریاستوں کے انتخابات سے پہلے کیا ہے ہلچل؟

اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…

11 hours ago

Special Parliament Session: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی تیاری؟ حلقہ بندی اور خواتین کے ریزرویشن پر ہو سکتا ہے بڑا فیصلہ

پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…

12 hours ago