تحریر : ڈاکٹر سیّد سلیمان اختر
پرڈیو یونیورسٹی میں پروفیسر اور امریکی فلبرائٹ۔نہرو اسکالر دھرمیندر سارسوت ایک اہم زرعی چیلنج کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں اور وہ چیلنج ہے دھان کی فصل کو نقصان پہنچانے والی ’رائس بلاسٹ‘ بیماری۔ یہ ایک ایسا نقصاندہ انفیکشن ہے جو دھان کی فصل کو تباہ کرسکتا ہے۔
انہوں نے نئی دہلی میں واقع ہندوستانی زرعی تحقیقی انسٹی ٹیوٹ میں تعلیمی سال ۲۰۲۴۔۲۰۲۳کے دوران مکئی کے لیے بنائے گئے ماڈلوں کو دھان کی بیماری کے ابتدائی علامات کی شناخت کرنے کے قابل بنایا۔
انہوں نے ڈرون سے حاصل کردہ تصاویر کی آمیزش سینسر سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار کے ساتھ کرکے پیش گوئی کے ایسے آلات تیار کرنے میں مدد دی جو بیماری کی ابتدائی علامات کی شناخت کرسکتے ہیں اور امریکہ اور ہندوستان میں فصلوں کو نقصان سے بچا سکتے ہیں۔
یہ جدید اختراعات زرعی ڈیٹا سائنس کے میدان میں امریکی مہارت کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح امریکی تحقیق دنیا بھر میں عملی حل فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
اپنی تحقیق کے ساتھ ساتھ سارسوت نے نوجوان سائنسدانوں کی راہنمائی کی اور ہندوستان میں ملک گیر پیمانے پر موجود زرعی ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے اداروں کو مشورے دیے جس سے مہارت والے ایسے نیٹ ورک قائم ہوئے جو زرعی ٹیکنالوجی اور مسئلہ حل کے شعبے میں امریکہ کی قیاد ت کو مستحکم کرتے ہیں۔
طلبہ، محققین اور کاروباری افراد کے ساتھ ان کا تعلق فلبرائٹ۔ نہرو پروگرام کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے جو ہندوستان اور امریکہ دونوں ملکوں کو زیادہ محفوظ ، مضبوط اور خوشحال بنانے کے لیے باہمی روابط استوار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
جدت اور اشتراک عمل
’رائس بلاسٹ‘ بیماری پر کام کرنے کا خیال سارسوت کو غیر متوقع طور پر اس وقت آیا جب وہ ایک گریجویٹ طالب علم کی مدد کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں ’’ میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں لکھا تھا کہ پھپھوند سے پھیلنے والی یہ بیماری ہر سال اتنی مقدار میں چاول کی خرابی کا باعث بنتی ہے کہ جس سے چھ کروڑ افراد کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے تقریباً ساٹھ ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ چاول دنیا کی نصف آبادی کی خوراک کا ذریعہ ہے اور کروڑوں کسانوں کی روزی روٹی اسی سے جڑی ہوئی ہے، خاص طور پر ہندوستان میں۔‘‘
وہ مزید کہتے ہیں ’’ چوں کہ ۲۰۳۰ ء تک پیداوار میں ۴۰ فی صد اضافہ درکار ہے ، اس لیے بیماری کی بروقت شناخت نہایت ضروری ہے۔‘‘
مکئی کی بیماری کی شناخت پر کی گئی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے سارسوت نے ہندوستانی زرعی تحقیق انسٹی ٹیوٹ میں چاول سے متعلق مخصوص اعداد و شمار کی مدد سے سیکھنے کے عمیق نمونوں کو ڈھالا جہاں چاول کی بیماریوں پر تحقیق کا ایک فعال پروگرام موجود ہے۔
یہ نمونے بیماری کے ابتدائی مراحل میں شناخت کرنے کے قابل تھے اور انہوں نے نئے طیفی پیمانوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ ڈرون اور سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔
سارسوت وضاحت کرتے ہیں کہ ہندوستانی زرعی تحقیق انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ اشتراک عمل ایک مشترکہ مقصد سے شروع ہوا یعنی مکانی ڈیٹا سائنس کی تعلیم کو جدید ، مؤثر اور عملی بنانا۔
تام ادارے میں تنظیمی تبدیلیوں کے باعث، انہوں نے اپنی توجہ پورے ہندوستان میں تدریسی اصولوں پر مبنی سیمینار کے انعقاد پر مرکوز کر دی۔
ان سیمیناروں میں تجرباتی طور پر سیکھنے، کورس پر مبنی انڈر گریجویٹ تحقیق کے طریقہ کار اور ہفتہ وار عملی مشقوں پر زور دیا گیا۔
وہ کہتے ہیں ’’ یہ کام امریکہ میں میری قیادت میں چلنے والے ایک کثیر ریاستی منصوبے کی تکمیلی حیثیت رکھتا تھا جس سے یہ ضرورت مزید اجاگر ہوئی کہ زرعی ٹیکنالوجی میں نظریا ت کو عملی میدان میں جوڑا جائے۔
یہ طریقہ کار اشتراکی، اعداد و شمار پر مبنی زرعی تحقیق میں امریکہ کی مہارت کو نمایاں کرتا ہے، جو جدید ماڈلنگ تکنیک کو عملی حل کے ساتھ جوڑتا ہے۔
سارسوت نے زرعی ٹیکنالوجی سے وابستہ نئے اداروں کا جائزہ لیا، اگست ۲۰۲۴ ء میں شروع ہونے والے ہندوستان کے قومی نظام برائے کیڑوں کی نگرانی کا تجزیہ کرنے والی کمیٹی کے مدعو رکن کے طور پر خدمات انجام دیں اور ہندوستانی کونسل برائے زرعی تحقیق کے اداروں میں ایج کمپیوٹنگ پر ورک شاپ کی قیادت کی جس سے ان کے فلبرائٹ۔ نہرو منصوبے کا دائرہ وسیع ہوا۔
سائنسی روابط کو مضبوط بنانا
فلبرائٹ۔نہرو تجربے نے سارسوت کے اس یقین کو مزید تقویت بخشی کہ امریکہ اور ہندوستان کے مابین سائنسی تعاون بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔
انہوں نے ہندوستانی زرعی تحقیقی انسٹی ٹیوٹ میں زرعی انجینئرس ، نباتاتی امراض کے ماہرین، اور ریموٹ سینسنگ کے ماہرین کے ساتھ قریبی اشتراک عمل کیا۔
وہ بتاتے ہیں ’’ میں نے آگرہ کے دیال باغ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ، آئی آئی ٹی رڑکی اور میرٹھ کی سردار ولبھ بھائی پٹیل یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اداروں کے ساتھ باقاعدہ اشتراکات کیے تاکہ مشترکہ تحقیق، نصاب میں جدت اور طلبہ تبادلے کو فروغ دیا جاسکے۔ ‘‘
سارسوت نے ہند امریکہ سائنسی و تکنیکی فورم اور ہندوستان کی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے رہنماؤں سے بھی رابطہ کیا تاکہ سرحد پار جدّت کے لیے پائیدار ماڈل تلاش کیے جا سکیں۔
ان کا یقین ہے کہ تعلیمی تحقیق امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک مؤثر قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
وہ کہتے ہیں ’’ پرڈیو یونیورسٹی میں ہندوستان سے ہمارا تعلق ایک سو پچیس برس پر محیط ہے۔ ہمارے یہاں تین ہزار سے زائد ہندوستانی طلبہ اور تین سو کے قریب ہند نژاد اساتذہ موجود ہیں۔
حالیہ اقدامات، جیسے پرڈیو۔ہند مرکز برائے تعلیم و اشتراک اور آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ساتھ قائم امریکہ۔ہند مرکز برائے سیمی کنڈکٹرس، مشترکہ ڈگری پروگرام، تحقیق اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں جدّت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت نے سیریز کا پہلا میچ بھی 8 وکٹوں سے جیتا تھا۔ اب سیریز کا…
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے…
کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نتیش کمار کے ’انڈیا‘ بلاک سے الگ ہونے پر…
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین اہم منصوبوں کو منظوری…
بدھ کو گوہاٹی میں جاری مقابلے میں مہمان ویسٹ انڈیز نے ٹاس ہارنے کے بعد…
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے CAQM نے نفاذی نظام کا جائزہ لیا، بغیر…