حیدرآباد کے تاریخی علاقے چارمینار کے قریب گلزار ہاؤس میں اتوار کی صبح تقریباً 6 بجے ایک عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم17 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے حکام کو صبح 6:30 بجے اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد 11 فائر ٹینڈرز کو فوری طور پر جائے وقوع پر بھیجا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر واقع ایک کمرشل یونٹ سے شروع ہوئی، جو ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ یا ایئر کنڈیشنر کے خراب ہونے کی وجہ سے پھیلی۔ گھنے دھوئیں نے عمارت کو گھیر لیا، جس سے متعدد افراد بے ہوش ہوگئے اور کئی مکین پھنس گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر آسمانیہ جنرل ہسپتال، اپولو ہسپتال، اور دیگر نجی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
حادثے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونتھ ریڈی نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکام کو فوری امدادی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زخمیوں کے لیے بہترین طبی امداد کو یقینی بنانے اور پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پی ایم این آر ایف سے 2 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔ مقامی ایم آئی ایم ایم ایل اے میر ذوالفقار علی اور مرکزی وزیر کشن ریڈی نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور متاثرین کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ کشن ریڈی نے بتایا کہ آگ ایک موتیوں کی دکان میں لگی، جو عمارت کے اوپری حصے میں رہائشی فلیٹس تک پھیل گئی۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں متضاد رپورٹس ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو بچوں اور چار خواتین سمیت ایک موتیوں کے تاجر کے خاندان کے افراد اور ان کے ملازمین شامل ہیں۔ عمارت میں تقریباً 30 افراد موجود تھے، جن میں سے کچھ کو فائر فائٹرز نے بچایا۔ آگ کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، لیکن حکام کا خیال ہے کہ ناقص برقی وائرنگ یا شارٹ سرکٹ اس کی بنیادی وجہ ہو سکتا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ عمارت کی تنگ گلیوں اور بھیڑ کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔
اس سانحے نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی کے معیارات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پرانی عمارات میں ناقص وائرنگ اور ناکافی فائر سیفٹی اقدامات اس طرح کے حادثات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکجز کا اعلان کیا ہے، جبکہ پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ، اور میونسپل حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ شہر بھر میں حفاظتی معائنہ کریں۔ شہریوں اور سماجی تنظیموں نے بھی متاثرین کی مدد کے لیے امدادی مہمات شروع کی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر لوگ اس سانحے پر گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔
ادھروزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو پرائم منسٹرز نیشنل ریلیف فنڈ (PMNRF) سے 2 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی، جبکہ زخمیوں کو 50,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ملک…
سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے پیش نظر امریکہ نے اپنے سفارتی…
ڈبلیو ایچ او کے مطابق، خسرے کے وائرس سے متاثر ہونے کے عموماً 7 سے…
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی سفیر سرجیو گور نے ریلائنس انڈسٹریز کے جام…
وزیر اعظم نریندر مودی 25 اکتوبر 2026 کو اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی کا دورہ کریں…
دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…