قومی

Fighting Cybercrime Across Borders: دنیا بھر میں آن لائن جرائم کی روک تھام

تحریر:چاروی اروڑا

مجرم فون کال ،پیغامات اور معتبر اداروں کے نام اور شناخت کا استعمال کرکے سرکاری اداروں اور کمپنیوں کا روپ دھارتے ہیں اور دور دراز مقامات سے شہریوں کو فریب دے کر ان سے پیسےیا خفیہ معلومات حاصل کرتے ہیں۔چوں کہ آن لائن جرائم پر مبنی دھوکہ دینے والے یہ نیٹ ورک اب امریکیوں کو زیادہ نشانہ بنانے لگے ہیں اس لیے امریکہ اور ہندوستان کے مابین تعاون ایک مؤثر دفاعی ڈھال کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

نئی دہلی کے امریکی سفارت خانے میں ایف بی آئی کے قانونیاتاشی سہیل داؤد بتاتے ہیں کہ ان جرائم پیشہ نیٹ ورک کی بیخ کنی کے لیے قریبی عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق ’’ ایف بی آئی طے شدہ قانونی اور عملی اشتراک کے تحت ہندوستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کرتی ہے۔ اس میں معلومات کا تبادلہ ، مشترکہ تحقیقات کی ہم آہنگی، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور تکنیکی تعاون شامل ہے۔‘‘

روز افزوں خطرہ

ایف بی آئی کے انٹرنیٹ کرائم کمپلین سینٹر(آئی سی تھری)کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ء میں آن لائن جرائم اور دھوکہ دہی سے ہونے والے نقصانات ۱۶ اعشاریہ۶ بلین ڈالر تک پہنچ گئے جو گذشتہ برس کے مقابلے ۳۳ فی صد زیادہ ہے۔ اور غیر قانونی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ نیٹ ورک اپنی کاروائیاں سرحدوں کے باہر بھی پھیلا رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی اس رجحان میں تقویت کا سبب بن رہی ہے۔ داؤد کے مطابق ’’جرائم پیشہ عناصر تیزی کے ساتھ نئی صورت حال کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور جدید تکنیک، سوشل میڈیا ، مصنوعی ذہانت اور عصری واقعات کو استعمال کرکے اپنی جعل سازی کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا ’’ یہ کوئی معمولی خلل نہیں بلکہ ڈیجیٹل میدان میں منظم جرائم کی کاروائیاں ہیں۔‘‘

دھوکہ دہی کے نیٹ ورک کا خاتمہ

آن لائن دھوکہ دہی کے بہت سارے منصوبے منظم غیر ملکی کال سینٹروں سے چلائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نیٹ ورک کچھ خدمات ’ ٹھیکے‘ پر بھی حاصل کرتے ہیں ، جیسے رابطہ نمبروں کی فہرست خریدنا یا جعلی ویب سائٹ بنانے کے لیے کمپنیوں کی خدمات لینا۔

چوں کہ متاثرین ، شواہد اور مجرم اکثر مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں ، اس لیے تحقیقات کے لیے قریبی بین الاقوامی ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے داؤد بتاتے ہیں ’’ مان لیں  ہندوستان میں ایک کال سینٹر پکڑا جاتا ہے مگر متاثرین امریکی شہری ہیں   اور مالی لین دین کا سراغ امریکہ میں ملتا ہے۔ایسے میں ہندوستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف بی آئی سے رابطہ کرتے ہیں اور ایف بی آئی متاثرین سے رجوع کرکے ہندوستان کی عدالتوں میں گواہی کی تیاری کرتی ہے۔ وہ ہندوستانی حکام کو مالی شواہد کی کڑی مکمل کرنے میں مدد دیتی ہے کیوں کہ نقصان امریکہ میں ہوا ہوتا ہے۔ ‘‘

یہ باہمی تعاون قانونی احتساب کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ داؤد کے مطابق ’’فراہم کردہ شواہد اور متاثرین کے بیانات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ہندوستان  میں قائم کال سینٹروں کے ذمہ داران کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس اشتراکِ عمل کے بغیر قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ ‘‘

حالیہ کامیابی امریکہ اور ہندوستان کے تعاون کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ ایف بی آئی کے بالٹیمور فیلڈ آفس، مونٹگمری کاؤنٹی پولیس اور اسٹیٹ اٹارنی آفس کی مشترکہ تفتیش میں ان دھوکہ دہی نیٹ ورکس کا  سراغ لگایا گیا جو میری لینڈ سمیت سینکڑوں امریکی شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے، اور جن کی جڑیں ہندوستان  کے منظم    کال سینٹروں تک جاتی تھیں۔

دسمبر ۲۰۲۵ءمیں سی بی آئی نے ان کال سینٹروں کو ختم کردیا اور چھ ہندوستانیوں کو گرفتار بھی کیا جو ان جرائم پیشہ گروہوں کی قیادت کر رہے تھے اور جن پر امریکی شہریوں سے تقریباً۵۰ ملین ڈالر  ہڑپنے کا الزام تھا۔

داؤد بتاتے ہیں ’’ حال ہی میں اس طرح کی کئی کامیاب کاروائیاں ہو چکی ہیں ۔ یہ سب ایف بی آئی اور ہندوستان حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کا نتیجہ ہے۔‘‘

یہ کاروائیاں صرف ایک معاملے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان اقدامات کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ اس سے مجرموں کو حاصل ہونے والے پیسوں کے ذرائع مسدود ہوتے ہیں، آن لائن نظام متاثر ہوتا ہے اور نئے لوگوں کی بھرتی رکتی ہے جس سے فریب کاری کا پورا نیٹ ورک کمزور پڑ جاتا ہے۔

بیداری فرق پیدا کرتی ہے

آن لائن دھوکہ دہی ہر عمر اور ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کرتی ہے۔ داؤد وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’’ایک عام غلط فہمییہ ہے کہ اس سے صرف اُن لوگوں کو نشانہ بنایا جا تا ہے جو ٹیکنالوجی سے واقف نہیں ہوتے۔ لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ وہ کبھی دھوکے کا شکار نہیں ہوں گے، حالانکہ اس فریب دہی   کے ذریعے انسانی نفسیات کو نشانہ بنایا جاتا جس کا تعلق  تکنیکی کمزوری سے  نہیں ہے۔ ‘‘

آن لائن دھوکہ دہی کوئی ایسا جرم نہیں جس میں متاثرہ فریق نہ ہو۔ یہ پنشن یافتہ افراد، خاندانوں اور چھوٹے کاروباروں کو متاثر کرتی ہے۔ بہت سے معاملات میں اس کا جذباتی اثر مالی نقصان کے برابر ہوتا ہے۔

داؤد زور دے کر کہتے ہیں ’’ آگاہی ہمارے سب سے مضبوط دفاعی ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔ ‘‘ حتی ٰ کہ ایک لمحے کا توقف بھی افراد کو دھوکہ دہی کی شناخت کرنے اور مالییا جذباتی نقصان سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

دھوکہ دہی کی اطلاع دینا بھی ضروری ہے۔ داؤد کے بقول’’چاہے پیسہ ضائع ہو گیا ہو، معاملے کی رپورٹ لکھوانے سے حکام کو  رجحانات معلوم کرنے اور مجرم نیٹ ورک ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ‘‘

داؤد کے مطابق’’مجرمانہ عناصر کے جغرافیائی پھیلاؤ اور عالمی مالیاتی لین دین کی آسانی کی وجہ سے تمام قانونی اداروں کے مابین تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں ’’ اشتراک ِ عمل سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بین الاقوامی سطح پر کاروائی کر سکتے ہیں ، مجرموں کو گرفتار کرسکتے ہیں اور عدالتی انصاف کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ‘‘

ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بدل رہی ہے، اور مستقل تعاون کی بدولت تفتیش کار مجرموں سے ایک قدم آگے رہ سکتے ہیں۔ داؤد کہتے ہیں ’’یہ شراکت داری صرف ایک دو معاملات  کے لیے نہیں بلکہ اداروں کو مضبوط اور دیرپا بنانے کے لیےناگزیر ہے۔‘‘

بشکریہ اسپَین میگزین ، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

Bharat Express

Recent Posts

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

7 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

34 minutes ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

42 minutes ago