قومی

FDI hits highest in three years: ایف ڈی آئی 2024-25 میں 81 بلین ڈالر تک پہنچ گئی، تین سالوں میں سب سے زیادہ: ڈی پی آئی آئی ٹی سکریٹری

بھارت نے مالی سال 2024-25 میں 81.04 بلین ڈالر کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) حاصل کی، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ ہے اور پچھلے سال کے 71.28 بلین ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق، ڈیپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (DPIIT) کے سیکریٹری امردیپ سنگھ بھاٹیا نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (CII) کے سالانہ بزنس سمٹ 2025 میں یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اعدادوشمار بھارت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور مضبوط معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی بدولت FDI کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سروسز سیکٹر نے 19 فیصد حصے کے ساتھ سب سے زیادہ FDI ایکوئٹی حاصل کی، جس میں 9.35 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جو کہ گزشتہ سال کے 6.64 بلین ڈالر کے مقابلے میں 40.77 فیصد زیادہ ہے۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ہارڈویئر نے 16 فیصد، جبکہ ٹریڈنگ نے 8 فیصد حصہ حاصل کیا۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر نے بھی 19.04 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ 18 فیصد اضافہ دیکھا۔ سنگاپور 14.94 بلین ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا FDI ذریعہ رہا، اس کے بعد امریکہ (5.45 بلین ڈالر) اور ماریشس (3.73 بلین ڈالر) ہیں۔

بھاٹیا نے بتایا کہ 2014 سے 2025 تک بھارت نے 748.78 بلین ڈالر کی FDI حاصل کی، جو کہ 2003-14 کے 308.38 بلین ڈالر کے مقابلے میں 143 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں FDI کے ذرائع کے ممالک کی تعداد بھی 89 سے بڑھ کر 112 ہو گئی۔ 2014 سے 2019 تک، بھارت نے دفاعی، انشورنس، پنشن، سول ایوی ایشن، تعمیرات، اور ریٹیل جیسے شعبوں میں FDI کے ضوابط کو نرم کیا، جبکہ 2019 سے 2024 تک کوئلہ کان کنی، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ، اور انشورنس انٹرمیڈیریز میں 100 فیصد FDI کی اجازت دی گئی۔

تاہم، رپورٹس میں نشاندہی کی گئی کہ نیٹ FDI میں 96.5 فیصد کی کمی ہوئی، جو کہ 2024-25 میں صرف 353 ملین ڈالر رہی، جو کہ گزشتہ سال کے 10 بلین ڈالر سے کافی کم ہے۔ اس کی وجہ بڑے پیمانے پر کیپٹل ریپیٹری ایشن اور بھارتی کمپنیوں کی جانب سے 29 بلین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہے۔ آئی پی اوز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 49 بلین ڈالر واپس نکالے، جس میں سوئگی اور ایئرٹیل جیسے اداروں سے ایگزٹ شامل ہیں۔

حکومت FDI کے عمل کو مزید آسان بنانے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر کر رہی ہے، جس میں ون ونڈو کلیئرنس سسٹم اور زمین کی دستیابی جیسے مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت پر منظوری اور واضح رہنما اصول بھارت کے کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنائیں گے۔یہ اضافہ بھارت کی معاشی استحکام اور 6.5 فیصد سالانہ GDP گروتھ کی توقع کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھارت کو ایک پرکشش منزل بناتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

PM Modi’s Diwali Message: دیوالی پر وزیر اعظم مودی کا پیغام، بولے- یہ مایوسی پر امید کی ابدی جیت کی علامت ہے

وزیر اعظم مودی نے حکومت ہند کے ’جن سمپرک پورٹل‘ پر جاری اپنے پیغام میں…

22 minutes ago

Bank Holiday: آج ہفتہ کو بینک کھلے ہیں یا بند؟ دیوالی سمیت آنے والے دنوں میں بینکوں کی چھٹیوں کی فہرست

 آج بینکنگ کا کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ ایسے میں عام طور پر…

1 hour ago

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

2 hours ago