قومی

FCRA Amendment Bill 2026: ایف سی آر اے ترمیمی بل پر حکومت کی تیاریاں تیز، غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی این جی اوز کے لیے قواعد مزید سخت ہوں گے

مرکزی حکومت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے قواعد مزید سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیر کو فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) میں ترمیم سے متعلق نیا بل لوک سبھا میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی چندے کے استعمال میں شفافیت بڑھانا، جوابدہی کو یقینی بنانا اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو مضبوط بنانا ہے۔

نامزد اتھارٹی قائم کی جائے گی

حکومتی ذرائع کے مطابق ایوان میں زیر التوا دیگر اہم بلوں پر بحث مکمل ہونے کے بعد ایف سی آر اے ترمیمی بل کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بیرونِ ملک سے ملنے والے فنڈ کے درست استعمال کو یقینی بنانے اور بے ضابطگیوں پر روک لگانے کے لیے موجودہ قانون میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔

مجوزہ ترمیم کی سب سے اہم شق نامزد اتھارٹی (Designated Authority) کے قیام سے متعلق ہے۔ اگر کسی این جی او کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو جائے، ادارہ خود اپنا لائسنس سرینڈر کر دے یا مقررہ وقت پر اس کی تجدید نہ ہو، تو اس کے پاس موجود غیر ملکی فنڈ اور ان سے حاصل کی گئی تمام جائیدادیں اس اتھارٹی کے کنٹرول میں چلی جائیں گی۔ بعد ازاں حکومت ضرورت کے مطابق ان اثاثوں کو کسی سرکاری محکمے کے حوالے کر سکے گی یا انہیں فروخت کر سکے گی، جبکہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔

بل میں مزید کیا تجاویز شامل ہیں؟

مجوزہ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اگر ایف سی آر اے رجسٹریشن کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید نہ کرائی جائے تو رجسٹریشن خود بخود منسوخ تصور ہوگی۔ اس کے علاوہ غیر ملکی فنڈ کتنے عرصے تک رکھا جا سکتا ہے اور اسے کب تک خرچ کرنا ہوگا، اس کے لیے بھی واضح مدت مقرر کی جائے گی۔اگر کسی ادارے کا لائسنس معطل ہو تو اس دوران وہ اپنی جائیداد فروخت نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے ادارے کے نام منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔ترمیمی تجویز کے مطابق ایف سی آر اے سے متعلق کسی بھی معاملے میں تحقیقات شروع کرنے سے پہلے حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ سزا کو پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کے ڈائریکٹر، ٹرسٹی اور دیگر ذمہ دار عہدیداروں کی جوابدہی بھی طے کی جائے گی۔مزید یہ کہ اگر کوئی این جی او بند ہو جائے یا طویل عرصے تک غیر فعال رہے تو غیر ملکی فنڈ سے حاصل کیے گئے اس کے اثاثے مستقل طور پر حکومت کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔

سیاسی اختلافات کا امکان

اس مجوزہ بل کو لے کر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے این جی اوز کی آزادیِ عمل متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ لوک سبھا میں اس بل پر تفصیلی بحث اور گرما گرم مباحثہ ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India vs Brazil: بھارت کو برازیل کے ہاتھوں 4-0 سے شکست، سالٹ لیک اسٹیڈیم میں بلیو ٹائگرز نے دکھایا جواں مردی کا مظاہرہ

کولکاتا کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے بین الاقوامی دوستانہ میچ میں برازیل نے…

9 hours ago

ملک کو 2029 تک منشیات سے پاک بنانے کا ہدف: امت شاہ

امت شاہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 31 دسمبر 2029 تک مدھیہ پردیش…

10 hours ago

Manoj Tiwari: ’بنگال کے بغیر فٹبال کی بات ادھوری‘، منوج تیواری نے کولکاتا میں بھارت-برازیل مقابلے کو بتایا نیا دور

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھارت اور برازیل کے درمیان مقابلے…

10 hours ago

Asian Games: پی ایم مودی نے ہاکی ٹیم کی تاریخی گولڈ میڈل جیت کو سراہا، دیگر کھلاڑیوں کو بھی دی مبارکباد

ہفتہ کy کے روز بھارت کی مردوں کی ہاکی ٹیم نے ککامی گاہارا کے گیفو…

10 hours ago

Captain Smit Machhar: دبئی کے کراؤن پرنس نے کیپٹن اسمت مچھار سے کی ملاقات، ماتھا چوما اور کہا- ’ہمیں فخر ہے کہ آپ ہماری ٹیم کا حصہ ہیں‘

اسپتال سے پہلی بار کیپٹن اسمت مچھار کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ تصاویر میں…

10 hours ago