مرکزی حکومت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے لیے قواعد مزید سخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیر کو فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) میں ترمیم سے متعلق نیا بل لوک سبھا میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی چندے کے استعمال میں شفافیت بڑھانا، جوابدہی کو یقینی بنانا اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو مضبوط بنانا ہے۔
نامزد اتھارٹی قائم کی جائے گی
حکومتی ذرائع کے مطابق ایوان میں زیر التوا دیگر اہم بلوں پر بحث مکمل ہونے کے بعد ایف سی آر اے ترمیمی بل کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بیرونِ ملک سے ملنے والے فنڈ کے درست استعمال کو یقینی بنانے اور بے ضابطگیوں پر روک لگانے کے لیے موجودہ قانون میں تبدیلی ضروری ہو گئی ہے۔
مجوزہ ترمیم کی سب سے اہم شق نامزد اتھارٹی (Designated Authority) کے قیام سے متعلق ہے۔ اگر کسی این جی او کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو جائے، ادارہ خود اپنا لائسنس سرینڈر کر دے یا مقررہ وقت پر اس کی تجدید نہ ہو، تو اس کے پاس موجود غیر ملکی فنڈ اور ان سے حاصل کی گئی تمام جائیدادیں اس اتھارٹی کے کنٹرول میں چلی جائیں گی۔ بعد ازاں حکومت ضرورت کے مطابق ان اثاثوں کو کسی سرکاری محکمے کے حوالے کر سکے گی یا انہیں فروخت کر سکے گی، جبکہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔
بل میں مزید کیا تجاویز شامل ہیں؟
مجوزہ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اگر ایف سی آر اے رجسٹریشن کی مدت ختم ہونے کے بعد اس کی تجدید نہ کرائی جائے تو رجسٹریشن خود بخود منسوخ تصور ہوگی۔ اس کے علاوہ غیر ملکی فنڈ کتنے عرصے تک رکھا جا سکتا ہے اور اسے کب تک خرچ کرنا ہوگا، اس کے لیے بھی واضح مدت مقرر کی جائے گی۔اگر کسی ادارے کا لائسنس معطل ہو تو اس دوران وہ اپنی جائیداد فروخت نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اسے کسی دوسرے ادارے کے نام منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔ترمیمی تجویز کے مطابق ایف سی آر اے سے متعلق کسی بھی معاملے میں تحقیقات شروع کرنے سے پہلے حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ ساتھ ہی زیادہ سے زیادہ سزا کو پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں ادارے کے ڈائریکٹر، ٹرسٹی اور دیگر ذمہ دار عہدیداروں کی جوابدہی بھی طے کی جائے گی۔مزید یہ کہ اگر کوئی این جی او بند ہو جائے یا طویل عرصے تک غیر فعال رہے تو غیر ملکی فنڈ سے حاصل کیے گئے اس کے اثاثے مستقل طور پر حکومت کے کنٹرول میں چلے جائیں گے۔
سیاسی اختلافات کا امکان
اس مجوزہ بل کو لے کر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس سے این جی اوز کی آزادیِ عمل متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ لوک سبھا میں اس بل پر تفصیلی بحث اور گرما گرم مباحثہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…
کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…
دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…
اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور…
17 سالہ نیتک کھنڈیلوال کے قتل کے معاملے میں پولیس کی کارروائی، سیکٹر 50 کے…
وزیر اعظم نریندر مودی 25 اکتوبر کو اتر پردیش اور اوڈیشہ کا دورہ کریں گے۔…