قومی

Farooq Abdullah on Pakistan: پاکستان سے بات چیت کرنی ہے یا نہیں، یہ ہمارا نہیں مرکزی حکومت کا کام، فاروق عبداللہ کا بڑا بیان

پڑوسی ممالک سے تعلقات رکھنے کے لئے بات چیت کرنے کی اکثروکالت کرنے والے فاروق عبداللہ کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ اسمبلی الیکشن میں ملی بڑی جیت کے بعد نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان سے بات چیت شروع کرنی ہے یا نہیں، یہ ہمارا نہیں مرکزی حکومت کا کام ہے۔ ہم بھائی چارہ چاہتے ہیں، ہمیں اپنے سبھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہئے۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مرکزی حکومت جنوبی ایشیائی ایسوسی ایشن برائے علاقائی تعاون (سارک) کوپھرسے شروع کرے گی تاکہ ہم خوشی سے رہ سکیں۔ ہم ان ممالک کے بڑے بھائی ہیں۔ اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات پربھی فاروق عبداللہ نے بیان دیا ہے۔

ہمیشہ یہی چاہتا ہے امریکہ:  فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اس معاملے میں ٹونیشن تھیوری کا سب سے بڑا حامی تھا۔ امریکہ کو بھی یہ سمجھنا چاہئے۔ امریکہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ ان کے لئے ایک جگہ ہونی چاہئے تاکہ وہ مشرق وسطیٰ (مڈل ایسٹ) پر اپنا اختیاررکھ سکے۔ اگراسرائیل نہیں بھی ہوتا تو بھی وہ اسرائیل کا قیام کرلیتے۔ میں اسرائیل اورہندوستانی حکومت سے گزارش کروں گا کہ وہ بات کریں اور ان جنگوں کو ختم کریں۔

عمرعبداللہ نے پیش کیا حکومت سازی کا دعویٰ

دوسری جانب، نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی کی جمعہ کے روز میٹنگ ہوئی۔ اس میں عمرعبداللہ کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا۔ اس پرعمرعبداللہ نے اراکین اسمبلی کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد عمرعبداللہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی ہے اورحکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ عمرعبداللہ نے کہا کہ جو فیصلہ لیا گیا ہے، اس کے بارے میں سبھی کوجانکاری ہے۔ میں پارٹی اراکین اسمبلی کا شکرگزارہوں کہ انہوں نے مجھ پربھروسہ ظاہرکیا۔

چارآزاد اراکین اسمبلی نے نیشنل کانفرنس کو حمایت دی

عمرعبداللہ نے کہا کہ 7 میں سے 4 آزاد اراکین اسمبلی نے بھی نیشنل کانفرنس کوحمایت دے دی ہے۔ اس سے پارٹی کا اسمبلی اعدادوشماربڑھ کر 46 ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ جموں وکشمیراسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے۔ اسے 42 سیٹوں پرجیت ملی ہے جبکہ 6 اراکین اسمبلی کانگریس کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے ہیں۔

-بھارت ایکسپریس

Nisar Ahmad

Recent Posts

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

2 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

2 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

2 hours ago