بھارت ایکسپریس۔
ہریانہ سرحد پر کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہو رہی ہے۔
کسانوں کے آندولن سے متعلق دائرعرضی پر ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے حکومت سے پوچھا ہے کہ آپ یریشان کیوں ہیں؟ کیا وہ ہریانہ میں آندولن کررہے ہیں؟ آپ سڑکوں پر بیریکیڈنگ کیوں لگا رہے ہیں؟ جس کے بعد مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا کہ دہلی سے 5 کلومیٹرپہلے جمع ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہتھیاروں کے ساتھ ٹریکٹروں میں تکنیکی تبدیلیاں کی ہیں، اس لئے ہم لاء اینڈ آرڈربنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہریانہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سبھی فریق کو آپس میں بیٹھ کرحل نکالنا چاہئے۔ پنجاب اورہریانہ دونوں سرکاریں مل کرکسانوں کے احتجاج کے لئے جگہ متعین کریں۔ پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال آخری متبادل ہونا چاہئے۔ وہیں مرکزی حکومت نے کہا کہ ایم ایس پی کے لئے پہلے ہی کمیٹی بنائی جاچکی ہے۔ ہم کسانوں سے بات چیت کے لئے اوران کے مسائل کو حل کرنے کے لئے تیار ہیں۔
وہیں ہریانہ کے شمبھو بارڈراورجیند میں بھی کسانوں اورپولیس کے درمیان سخت جھڑپ دیکھنے کو ملی ہے۔ ایک طرف پولیس نے آنسوگیس کے گولے داغے تودوسری طرف کسانوں نے بھی پتھراؤکیا اور پولیس کے ذریعہ لگائے گئے بیریکیڈنگ کو توڑدیا۔ کسانوں اورپولیس کے درمیان حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ بلکہ حالات بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ دہلی کے مختلف علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے۔
ہریانہ کے جیند میں کنکریٹ سلیب اور کاٹے والے تارلگائے گئے
ہریانہ کے جیند میں کسانوں کے ‘دلی چلو’ مارچ کے پیش نظرپولیس نے سخت اورپختہ انتظامات کئے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے کنکریٹ سلیب، لوہے کی کیلیں، بیریکیڈس، کانٹے والی تاریں لگائی گئی ہیں جبکہ پولیس اورنیم فوجی دستوں کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ وہیں پولیس نے ڈرون سے آنسو گیس کے گولے داغے ہیں۔
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…