قومی

Farid Khan Keeps a Multi-Generational Legacy Alive: نسلوں پرانی وراثت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں فرید خان، پہلگام کی تاریخی پانی کی چکی کیوں ہے خاص؟

رئیس احمد ماگرے

جموں و کشمیر کے خوبصورت سیاحتی مقام پہلگام کی اَرو وادی میں موجود صدیوں پرانی روایتی پانی کی چکی آج بھی مقامی ثقافت اور قدیم طرز زندگی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ پہاڑوں سے بہنے والے پانی کی طاقت سے چلنے والی یہ تاریخی چکی ہر روز ہزاروں مقامی افراد اور سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے۔ یہاں آنے والے سیاح نہ صرف اس قدیم چکی کے کام کرنے کے روایتی طریقے کو قریب سے دیکھتے ہیں بلکہ کشمیری ثقافت کی مشہور ’نون چائے‘ یعنی نمکین چائے کا منفرد ذائقہ بھی چکھتے ہیں۔

نسلوں سے خاندان کی روزی کا ذریعہ

ارُو میں موجود اس قدیم پانی کی چکی سے فرید احمد خان اپنی روزی کماتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جسے ان کے آباؤ اجداد نسل در نسل نبھاتے آئے ہیں۔ ماضی میں بھی خاندان کے افراد اپنے روزگار اور گزر بسر کے لیے اسی چکی پر انحصار کرتے تھے اور آج فرید خان اس قدیم روایت کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔فرید احمد خان کے لیے یہ چکی محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کے خاندان کی قیمتی میراث ہے۔ یہ روایتی کشمیری طرز زندگی کی علامت اور اَرو وادی کی ثقافتی شناخت کا ایک زندہ حصہ بھی ہے۔ جدید دور میں جہاں مشینی طریقوں نے روایتی ذرائع کو تقریباً ختم کردیا ہے، وہیں فرید خان کا اس قدیم چکی کو جاری رکھنا ایک منفرد مثال ہے۔

پہاڑی پانی سے چلتی ہے تاریخی چکی

پہاڑوں سے آنے والے قدرتی پانی کے بہاؤ سے چلنے والی یہ چکی کشمیر کی قدیم زندگی، مقامی ہنرمندی اور قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ اس میں روایتی طریقے سے اناج پیسا جاتا ہے، جس سے تیار ہونے والی اشیا اپنے قدرتی ذائقے اور تازگی کے لیے سیاحوں میں خاصی مقبول ہیں۔ارُو آنے والے سیاح اکثر اس چکی پر رک کر اناج پیسنے کے قدیم طریقہ کار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس دوران انہیں مقامی کھانوں اور خصوصاً کشمیری نمکین چائے سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔

تازہ آٹے سے تیار ہوتی ہیں کئی روایتی اشیا

اس تاریخی چکی میں پسے ہوئے آٹے سے تقریباً 16 مختلف قسم کی اشیا تیار کی جاتی ہیں۔ ان میں تازہ پسا ہوا آٹا، مکئی کی روٹی، پنیر اور دیگر روایتی کشمیری پکوان شامل ہیں۔ تازہ اور روایتی مصنوعات کی دستیابی نے اس مقام کو سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنا دیا ہے۔مقامی افراد بھی یہاں کی تازہ اشیا خریدنے کے لیے آتے ہیں، جبکہ باہر سے آنے والے سیاح کشمیر کے روایتی ذائقے اور ثقافت کا تجربہ کرنے کے لیے اس جگہ کا رخ کرتے ہیں۔

وراثت، ثقافت اور سیاحت کا حسین امتزاج

صدیوں پرانی یہ پانی کی چکی اب صرف ایک تاریخی ورثہ نہیں رہی بلکہ اَرو وادی کی مقبول سیاحتی کشش بن چکی ہے۔ فرید خان کی کوششوں سے یہ قدیم روایت آج بھی زندہ ہے۔ خوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع یہ چکی کشمیر کی ثقافت، مقامی روزگار، روایتی کھانوں اور سیاحت کو ایک ساتھ جوڑتی ہے، اسی لیے یہاں آنے والے لوگ بار بار اس مقام کا رخ کرتے ہیں تاکہ کشمیر کے حقیقی اور روایتی رنگ کو قریب سے محسوس کرسکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Adani Green Energy: اڈانی گرین انرجی نے صرف 14 ماہ میں بیٹری اسٹوریج کی صلاحیت 6.63 گیگاواٹ گھنٹے تک بڑھائی

اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے…

6 minutes ago

UPSC Centenary Celebrations: حکومت مائی باپ نہیں، شہری دیوو بھوا، یہی یو پی ایس سی کے نئے دور کا منتر ہے: وزیراعظم

وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ضروری ہے…

1 hour ago

Ram Nath Kovind 79th Birthday: سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی یوم پیدائش، امت شاہ سمیت کئی لیڈروں نے دی مبارکباد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے رام ناتھ کووند کو یوم پیدائش کی مبارکباد دیتے…

1 hour ago

100 Years of UPSC: یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل، وزیراعظم مودی نے جاری کیا یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ

وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کی صدی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے کہا…

2 hours ago

PM Modi Niti Shatakam Shlok: پی ایم مودی نے شیئر کیا نیتی شتکم کا طاقتور اشلوک، بتایا ’امرت‘ ملنے تک کیوں نہیں رکے دیوتا

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھرتری ہری کی ’نیتی شتکم‘ کا ایک شعر شیئر کیا،…

2 hours ago