قومی

Supreme Court on CJP Protest: پولیس اہلکاروں پر تشدد کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، گائیڈ لائن طے کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی کے جنترمنترپرکاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں مبینہ نیٹ پیپرلیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد کے معاملے میں زخمی پولیس اہلکاروں کے اہلِ خانہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں ڈیوٹی کے دوران تشدد کا سامنا کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لئے مضبوط قانونی تحفظ اورواضح رہنما اصول (گائیڈ لائن) بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ درخواست اے سی پی کیلاش سنگھ بشٹ، اے ایس آئی سندیپ، کانسٹیبل دھیرج اوراے ایس آئی ہیمیندرراٹھی کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائرکی گئی ہے۔ یہ تمام اہلکارجنترمنترپراحتجاج کے دوران ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کوبھی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اورشخصی آزادی کے حق کا مؤثرتحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے خلاف تشدد پراکسانے یا بھڑکانے والے افراد کی جواب دہی طے کرنے کے لیے بھی مناسب ہدایات جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پرتعینات مرد اورخواتین پولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لئے واضح اور یکساں گائیڈ لائنزمرتب کی جائیں، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاراپنی ذمہ داریاں محفوظ ماحول میں انجام دے سکیں۔

سپریم کورٹ کی واضح ہدایات وقت کی ضرورت: درخواست گزار

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ امن وامان برقراررکھنے کے دوران پولیس اہلکاراکثرتشدد اورحملوں کا سامنا کرتے ہیں، اس لیے ان کے بنیادی حقوق اورسلامتی کویقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ درخواست ایسے وقت میں دائرکی گئی ہے جب سپریم کورٹ عوامی احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اورمبینہ زیادتیوں سے متعلق دیگرمقدمات کی بھی سماعت کررہی ہے۔ عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ پرامن احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے اوراس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ ریمارکس میں کہا تھا کہ پرامن اورقانونی طریقے سے احتجاج کرنا آئین کے تحت محفوظ حق ہے، اس لیے صرف احتجاج کی بنیاد پرلاٹھی چارج کوجائزقرارنہیں دیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ ملک بھرمیں پرامن احتجاج کے لیے ایک مشترکہ پروٹوکول تیارکرنے پرغورکیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ جہاں شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، وہیں انتظامیہ کے پاس ایسے شرپسند عناصر سے نمٹنے کے لئے بھی واضح نظام ہونا چاہئے، جواحتجاج کے دوران تشدد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Sustainability on Wheels: حیدرآباد کے اکشے سی ایس دیش پانڈے کا انوکھا ماڈل، اب کچرا پروسیسنگ پلانٹ خود پہنچے گا آپ کے پاس

’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…

7 minutes ago

Weather Update Today: مانسون کی رخصتی سے پہلے بادل برسنے کو تیار، دہلی سمیت 15 ریاستوں میں بارش اور طوفان کا الرٹ

بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…

1 hour ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 میں روشیبینا دیوی کا دم دار مظاہرہ، ووشو میں بھارت نے جیتا چاندی کا تمغہ

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…

2 hours ago

Sleeper Bus Fire Accident: نوئیڈا سے مہوبہ جا رہی سلیپر بس بنی آگ کا گولہ، یمنا ایکسپریس وے پر 9 مسافروں کی جل کر دردناک موت

اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…

3 hours ago

PM Modi Seva Yatra: وڈ نگر سے وارانسی تک 35,500 کلومیٹر کا سفر، 500 سے زائد نوجوان آج وزیر اعظم مودی سے کریں گے براہِ راست گفتگو

’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…

3 hours ago