قومی

CJP protest: سی جے پی کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے حکومت کی کیا تیاری؟ ٹرینیں منسوخ، دفعہ 163 نافذ، پانچ یا زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی

نئی دہلی،: دہلی کے جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے نوجوانوں کی قیادت میں بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ مظاہرہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر کیا جانا ہے۔ تاہم، دہلی پولیس نے اس احتجاج کی اجازت نہیں دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سی جے پی نے 7 اکتوبر کو اجازت کے لیے درخواست دی، جب کہ قواعد کے مطابق کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینا ضروری ہے۔ پولیس کے مطابق، اس سے قبل بھی سی جے پی نے احتجاج سے متعلق ضابطوں پر عمل نہیں کیا تھا۔ مجوزہ مظاہرے کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے مساجد میں اعلانات کروا کر لوگوں سے اپنے بچوں کو احتجاج میں نہ بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں کو بھی بلایا گیا ہے۔ دہلی سے متصل اتر پردیش میں بھی پولیس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔ بریلی، فیروزآباد اور علی گڑھ سمیت کئی اضلاع سے خواتین کانسٹیبلوں سمیت پولیس فورس دہلی بھیجی جا رہی ہے۔

دفعہ 163 نافذ، پانچ یا زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی

دہلی میں بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ کردی گئی ہے۔ اس دفعہ کے تحت مجسٹریٹ کو ہنگامی حالات میں ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے، جہاں امن و امان خراب ہونے یا عوامی مفاد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔اس دفعہ کے تحت تحریری اجازت کے بغیر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے، جلوس نکالنے، مظاہرہ کرنے، دھرنا دینے، نعرے لگانے، تقریر کرنے اور ہتھیار، لاٹھی، تلوار یا اینٹ پتھر جیسی اشیا لے کر چلنے پر پابندی عائد ہے۔دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ جب تک دفعہ 163 نافذ رہے گی، جنتر منتر یا کسی دوسری جگہ مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی بھی غیر مجاز اجتماع کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ڈی سی پی سشری پانڈے نے کہا، ’’دفعہ 163 نافذ ہے، اس کا مطلب ہے کہ مظاہرے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی بھی طرح کا اجتماع غیر قانونی ہوگا اور ہمیں قانونی کارروائی کرنی پڑے گی۔‘‘انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو ترجیح دیں اور ایسے غیر قانونی اجتماعات میں شامل ہونے سے گریز کریں۔

57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے کی تجویز

دہلی پولیس نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کو خط لکھ کر 9 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے کی تجویز بھیجی ہے۔ یہ پابندی حالات معمول پر آنے تک جاری رکھنے کی تجویز ہے۔پولیس نے ان اسٹیشنوں پر میٹرو ٹرینوں کی آمد و رفت کی تعداد کم کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بھیڑ بے قابو ہوکر حساس علاقوں کی جانب بڑھ سکتی ہے۔جن اہم میٹرو اسٹیشنوں کے دروازے بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے، ان میں جن پتھ، پٹیل چوک، سینٹرل سکریٹریٹ، راجیو چوک، نئی دہلی، منڈی ہاؤس، آئی ٹی او، سپریم کورٹ، اندرپرستھ، کشمیری گیٹ، کرول باغ، آئی این اے، حوض خاص، لاجپت نگر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، سیلم پور، ویلکم، شاہدرہ، رٹھالا، روہنی ایسٹ اور روہنی ویسٹ سمیت کل 57 اسٹیشن شامل ہیں۔اس دوران میٹرو اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت جاری رہ سکتی ہے، تاہم داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے کا حتمی فیصلہ ڈی ایم آر سی کرے گی۔

دہلی آنے والی کئی ٹرینیں منسوخ

بھارتی ریلوے نے 10 اکتوبر 2026 کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچنے والی میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ریلوے بورڈ کے کوچنگ ڈائریکٹوریٹ نے 9 اکتوبر کو جاری حکم میں کہا کہ وہ میل اور ایکسپریس ٹرینیں جو 9 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے کے بعد اپنے ابتدائی اسٹیشن سے روانہ ہوں گی اور 10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی یا حضرت نظام الدین پہنچیں گی، انہیں ان کے ابتدائی اسٹیشن پر ہی منسوخ کردیا جائے گا۔

منسوخ کی گئی اہم ٹرینوں میں شامل ہیں:

• 12301: ہاوڑہ–نئی دہلی راجدھانی ایکسپریس، جو 9 اکتوبر کو روانہ ہونے والی تھی۔

• 12313: سیالدہ–نئی دہلی راجدھانی ایکسپریس، جو 9 اکتوبر کو روانہ ہونے والی تھی۔

• 12309: راجندر نگر ٹرمینل–نئی دہلی تیجس راجدھانی ایکسپریس، جو 9 اکتوبر کو روانہ ہونے والی تھی۔

ریلوے کے اس فیصلے سے ان مسافروں کو پریشانی ہوسکتی ہے جنہوں نے پہلے سے ٹکٹ بک کرارکھے ہیں۔ مسافروں کو سفر سے پہلے اپنی ٹرین کی تازہ صورتحال معلوم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

مساجد میں اعلانات، لوگوں سے احتجاج میں شامل نہ ہونے کی اپیل

دہلی پولیس نے پرانی دہلی کی مساجد میں جاکر لوگوں سے احتجاج میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، چاندنی چوک کی باغ والی مسجد سمیت مختلف مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کروائے گئے۔اعلانات میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی احتجاج میں شامل نہ ہوں، اپنے بچوں اور اہل خانہ کو غیر مجاز اجتماعات میں نہ بھیجیں اور اشتعال انگیز پیغامات یا افواہوں پر توجہ نہ دیں۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے اور لوگوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچنا چاہیے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں جن سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے یا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Narendra Modi: جیور ایئرپورٹ کا نام اب وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر ہوگا، یوگی آدتیہ ناتھ کا اعلان

اتر پردیش کابینہ نے ’نریندر مودی انٹرنیشنل ایئرپورٹ‘ نام رکھنے کی تجویز منظور کرلی، وزیر…

3 hours ago

School Bus Accident: نیپال کے پوکھرا کے قریب سڑک سے پھسل کر کھائی میں گری اسکول بس، حادثے میں 5 کی موت

بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین…

5 hours ago