بھارت نے نکسل ازم (بائیں بازو کے انتہا پسندی یا ایل ڈبلیو ای) کے خلاف اپنی مہم کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز نے ماؤنوازوں کے مضبوط گڑھوں، جیسے کہ کوراگٹہ ہلز، پر قبضہ کیا اور سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سیکریٹری باسوراج کی ہلاکت ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے واضح پیغام دیا کہ یہ جنگ اب صرف نکسل ازم کو روکنے کی نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے اور وہاں امن بحال کرنے کی ہے۔
آپریشن بلیک فاریسٹ اور سیکورٹی کامیابیاں
آپریشن بلیک فاریسٹ، جو چھتیس گڑھ-تلنگانہ سرحد پر کرریگٹالو ہلز میں 21 روزہ سب سے بڑا اینٹی نکسل آپریشن تھا، کو سی آر پی ایف کے ڈی جی جی پی سنگھ نے “نکسل ازم کے خاتمے کی ابتدا” قرار دیا۔ اس آپریشن میں 31 ماؤنواز ہلاک ہوئے، اور ان کی سب سے مضبوط تنظیمیں منتشر ہو گئیں۔ سیکورٹی فورسز کی مربوط کوششوں نے ماؤنوازوں کے وسائل کو محدود کر دیا، اور نئے سیکورٹی کیمپوں کے قیام نے ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دیا۔ 2024 میں 718 ماؤنوازوں نے ہتھیار ڈالے، جو 2023 کے 928 کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت ہے۔
ترقیاتی اقدامات
نکسل متاثرہ علاقوں، جیسے کہ چھتیس گڑھ کے بستر اور گڈچیرولی، میں ترقیاتی کاموں نے رفتار پکڑی ہے۔ سڑکوں، ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی اور دیگر سہولیات کی توسیع سے مقامی لوگوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ پرادھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) کے تحت سابق نکسلیوں اور متاثرین کے لیے رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، بلرام پور ضلع میں 30 افراد کو رہائش کے لیے منظور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، 26 نکسل متاثرہ دیہاتوں میں پہلی بار پنچایت انتخابات اور پرچم کشائی ہوئی، جو ترقی کی علامت ہے۔
چیلنجز اور حکمت عملی
نکسل ازم کے خلاف جنگ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ماؤنواز اب چھوٹے گروہوں میں چھپ رہے ہیں، اور اندراوتی نیشنل پارک، مغربی اور جنوبی بستر جیسے علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر آپریشنز جاری ہیں۔ سیکورٹی فورسز مون سون کے دوران بھی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ نئے فارورڈ آپریٹنگ بیسز نے اندرونی علاقوں تک رسائی آسان کر دی ہے۔ ماؤنوازوں کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کر دیا گیا، کیونکہ حکومت ان سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
سماجی و معاشی اثرات
نکسل ازم کے خاتمے سے متاثرہ علاقوں میں امن اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ بستر، جو کبھی دہشت کی علامت تھا، اب امید اور ترقی کا مرکز بن رہا ہے۔ امیت شاہ نے بستر کے پانڈم فیسٹیول میں کہا کہ یہ علاقہ اب خوف کی بجائے ثقافتی ہم آہنگی کی علامت ہے۔ نکسل ازم کے خاتمے سے مقامی لوگوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع مل رہے ہیں، جو سماجی استحکام کو مضبوط کر رہے ہیں۔بھارت کی نکسل ازم کے خلاف جنگ اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ آپریشن بلیک فاریسٹ اور دیگر کامیاب آپریشنز نے ماؤنوازوں کی طاقت کو کمزور کیا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں نے متاثرہ علاقوں میں امید کو جنم دیا۔ امیت شاہ کے 2026 کے ہدف کے قریب آتے ہوئے، بھارت نہ صرف نکسل ازم کو ختم کر رہا ہے بلکہ ایک نئے ترقیاتی دور کا آغاز کر رہا ہے، جو خود انحصار اور مضبوط بھارت کے ویژن کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
ارون راج نے کہا کہ جب اسکیم کے آغاز کے لیے جگہ کا انتخاب کرنے…
سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…