قومی

Modi Government: جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ 10 جون کو ٹوٹ جائے گا، ملک خوش قسمت ہے کہ اسے نریندر مودی جیسا لیڈر ملا: شاہنواز حسین

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر سید شاہنواز حسین نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت خوش قسمت ملک ہے جسے نریندر دامودر داس مودی جیسا لیڈر ملا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنی قیادت اور عوامی خدمت کے ذریعے ملکی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے اور 10 جون کو وہ ایک اور اہم ریکارڈ اپنے نام کرنے جا رہے ہیں۔ شاہنواز حسین نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی طویل ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے منتخب وزرائے اعظم میں سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کا ریکارڈ عبور کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 10 جون کو یہ ریکارڈ باضابطہ طور پر ٹوٹ جائے گا، جو بھارتی سیاسی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے گزشتہ برسوں میں جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس نے نہ صرف بھارت کی اندرونی ترقی کو نئی رفتار دی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کی ساکھ کو مضبوط بنایا ہے۔ شاہنواز حسین کے مطابق وزیر اعظم مودی کی اولین ترجیح ہمیشہ ملک اور عوام کی خدمت رہی ہے اور اسی وجہ سے انہیں ملک بھر میں وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی آئندہ بھی طویل عرصے تک ملک کی قیادت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم 2029 اور 2034 کے عام انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور مسلسل عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول مودی کے لیے ذاتی مفاد سے بڑھ کر ملک کا مفاد اہم ہے اور یہی ان کی سیاسی کامیابی کی بنیاد ہے۔

شاہنواز حسین نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت نے مختلف شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کا وقار اور اثر و رسوخ بڑھا ہے اور آج دنیا میں ملک کو ایک مضبوط اور بااثر قوم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق 140 کروڑ بھارتیوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ان کے پاس ایسا وزیر اعظم موجود ہے جو عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہا ہے۔ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے شاہنواز حسین نے کہا کہ یہ اتحاد عملی طور پر پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی کا فقدان ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں الگ الگ راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق کئی اہم لیڈر اور جماعتیں اتحاد کے مشترکہ پلیٹ فارم سے دور ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں صرف بی جے پی کی مخالفت کی بنیاد پر اکٹھی ہوتی ہیں، لیکن بعد میں آپس کے اختلافات ان کی سیاسی حکمت عملی کو متاثر کرتے ہیں۔ شاہنواز حسین نے کانگریس پارٹی کی تنظیمی حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی اندرونی کمزوریوں کا شکار ہے اور اس کے رہنماؤں کے درمیان اعتماد کا فقدان نظر آتا ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ عوام اب سیاسی حالات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ترقی، استحکام اور مضبوط قیادت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں پر عوام کا اعتماد برقرار ہے اور ملک میں جاری ترقیاتی منصوبے مستقبل میں بھی اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

2 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

2 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

3 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

3 hours ago