قومی

Saleem Wastik arrested: دہلی پولیس کی بڑی کامیابی، بچے کے قتل کے الزام میں سلیم واستک گرفتار، 31 برس تک شناخت بدل کر پولیس سے کھیلی آنکھ مچولی

نئی دہلی: دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک ایسے مفرور مجرم کو گرفتار کیا ہے جو 31 سال سے قانون کی گرفت سے بچتا رہا۔ ملزم سلیم واستک (اصل نام سلیم احمد/سلیم خان) ایک 13 سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں مطلوب تھا اور اس دوران اس نے اپنی شناخت بدل کر یوٹیوبر اور سماجی کارکن کے طور پر نئی زندگی شروع کر لی تھی۔

1995 کا سنسنی خیز اغوا اور قتل کیس

یہ معاملہ 1995 کا ہے جب شمال مشرقی دہلی کے ایک تاجر کا 13 سالہ بیٹا سندیپ بنسل اسکول کے لیے نکلا لیکن واپس نہیں آیا۔ اگلے دن اغوا کاروں نے 30 ہزار روپے تاوان کا مطالبہ کیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد بچے کی لاش مصطفیٰ آباد، دہلی کے ایک نالے سے برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس تحقیقات میں سلیم خان کا نام سامنے آیا، جو اسکول میں مارشل آرٹس سکھاتا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی انل کے ساتھ جرم کا اعتراف کیا۔ 1997 میں عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی، لیکن سال 2000 میں دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت ملنے کے بعد سلیم فرار ہو گیا۔ اس نے خود کو مردہ ظاہر کر کے شناخت بدل لی اور مختلف شہروں میں چھپتا رہا، آخرکار لونی، غازی آباد میں سکونت اختیار کر لی، جہاں اس نے کپڑوں کا کاروبار کیا اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں شروع کیں۔

فنگر پرنٹ سے راز فاش، پولیس نے دبوچ لیا

کرائم برانچ کو خفیہ اطلاع ملی کہ معروف یوٹیوبر سلیم واستک دراصل وہی مفرور مجرم ہے۔ پولیس نے پرانے ریکارڈ، تصاویر اور فنگر پرنٹس کا موازنہ کیا، جس سے اس کی اصل شناخت کی تصدیق ہو گئی۔ بعد میں لونی، غازی آباد میں چھاپہ مار کر اسے گرفتار کر لیا گیا اور دوبارہ تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فرار رہنے کے دوران ملزم کی سوشل میڈیا پر خاصی مقبولیت ہو گئی تھی اور اس کی زندگی پر فلم بنانے کے لیے ایک پروڈیوسر نے ایڈوانس رقم بھی دی تھی۔ تاہم بالآخر پولیس کی تکنیکی تفتیش نے 31 سال پرانا راز بے نقاب کر دیا اور ملزم قانون کے شکنجے میں آ گیا۔

کون ہے قاتل سلیم واستک؟

سلیم واستک جو خود کو یوٹیوبر اور ’’ایکس مسلم‘‘ بتاتا رہا ہے اس وقت موضوع بحث بنا جب اسلام کے حوالے سے اس کے متنازعہ بیانوں کی وجہ سے اس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ چاقو سے گردن پر مختلف وار کیے گئے جس کے بعد وہ علاج ومعالجے کے لیے اسپتال میں بھرتی رہا اور موت سے جنگ لڑنے میں کامیاب رہا۔ اس پورے معاملے کو مسلم انتہاپسندی سے جوڑ کر دیکھا گیا اور سلیم واستک کو ملک کے الگ الگ حصوں سے حمایت موصول ہوئی۔ لیکن اب جبکہ اس کی شناخت ایک 14 سالہ بچے کے قاتل کے طور پر ہوئی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے پر عوام کا کیا رد عمل آتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں مثال

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچنل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 minutes ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

43 minutes ago

Drone Attacks on Protesters in PoK: پی او کے میں مظاہرین پر فائرنگ اور ڈرون حملوں کا الزام، 7 افراد ہلاک، 18 زخمی

پاکستانی سکیورٹی فورسز پر راولاکوٹ میں پُرامن مظاہرین اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا…

54 minutes ago

The revolution of 1857: ملک کی تحریک آزادی اور 1857 کو بغاوت کہنا تاریخ کے ساتھ ناانصافی، یہ آزادی کی پہلی جنگ تھی: امت شاہ

نائب سنگھ سینی نے امت شاہ کی تنظیمی صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: پیدائش سے  معذور بچوں کے لیے پنشن کی راہ ہموار، رقم میں بھی اضافہ کیا: وزیر اعظم مودی

گزشتہ ماہ حکومت نے وزیر اعظم دیویانگ جن پنشن اسکیم کے تحت معذور افراد کے…

1 hour ago