قومی

Murders in Love Affair: ناندیڑ کا لرزہ خیز واقعہ—محبت کی سزا موت؟ این سی آر بی کے مطابق ملک میں قتل کی وجوہات میں تیسرا بڑا سبب عشق یا ناجائز تعلقات

مہاراشٹر کے ناندیڑ میں ذات پات کی دیوار نے ایک اور محبت کو موت کے حوالے کر دیا۔ او بی سی سماج کی لڑکی آنچل مامیدکر اور دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے لڑکے سکشم کا تین سال پرانا عشق اس وقت اندوہناک انجام کو پہنچا جب لڑکی کے گھر والوں نے لڑکے کو پہلے ڈنڈوں سے مارا اور پھر گولی مار کر قتل کر دیا۔ سکشم کی موت کے بعد آنچل نے اس کے جسد خاکی کے ساتھ شادی کرلی۔ قتل کے بعد مقتول کے ہاتھ سے سندور بھرکر آنچل نے اس مردہ شخص کو اپنا شوہر مان لیا اور وہیں سے رخصت ہو کر سکشم کے گھر پہنچی۔ اس واقعہ نے نہ صرف سماج کو جھنجھوڑا بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا محبت جرم ہے؟

ہم نے خواب دیکھے مگر وہ وفا نہ ہوئے—آنچل

واقعہ کے بعد آنچل نے بتایا کہ دونوں گزشتہ تین سال سے رشتے میں تھے اور شادی کا ارادہ رکھتے تھے، مگر ذات اور سماجی بندشیں آڑے آگئیں۔ آنچل نے کہا: ’’سکشم کی ذات الگ تھی۔ میرے پاپا کہتے تھے کسی اور سے شادی کردیں گے مگر اس سے نہیں۔ پاپا اور بھائی مسلسل اسے دھمکیاں دے رہے تھے۔ آخرکار انہوں نے اسے مار ڈالا۔‘‘ یہ بیان صرف ایک لڑکی کا نہیں بلکہ ان بے شمار نوجوانوں کی آواز ہے جن کے خواب سماجی تعصب اور خاندانی انا کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

این سی آر بی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں قتل کی تیسری سب سے بڑی وجہ محبت یا ناجائز تعلقات ہیں۔ 2022 کی رپورٹ کے مطابق قتل کی پہلی دو بڑی وجوہات جھگڑے اور ذاتی دشمنی ہیں، جبکہ تیسری وجہ عشق یا رومانوی تعلقات ہے۔

محبت میں قتل — سال در سال اعداد

2020: ملک میں 29,193 قتل ہوئے، جن میں 3031 محبت یا ناجائز تعلقات سے وابستہ تھے۔ 2021: 29,272 قتل میں سے 3072 محبت کے تنازع پر ہوئے — یعنی 10.5 فیصد۔ 2022: 28,522 میں سے 2821 قتل عشق کے سبب ہوئے — یعنی 10 فیصد۔ ان اعداد سے واضح ہے کہ بھارت میں ہر دسواں قتل محبت کا انجام ہے۔ اس طرح کے معاملات میں 2022 سے قبل بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا: 2013 میں 7.2 فیصد، 2015 میں 9 فیصد جبکہ 2019 میں 11 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اگرچہ 2022 میں معمولی کمی آئی مگر پھر بھی یہ اعداد بتاتے ہیں کہ سماج میں محبت کا انجام اکثر خون اور نفرت میں بدل رہا ہے۔

محبت جرم ہے یا سماج کا خوف؟

ناندیڑ کا یہ واقعہ اور اس جیسے ہزاروں معاملات سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ذات، مذہب، خاندانی انا اور سماجی دباؤ آج بھی انسانی جذبات سے بڑا ہے؟ کیا بھارت محبت کو قبول کرنے کے بجائے اسے ختم کرنے کی روایت نبھا رہا ہے؟ آخر کب محبت کا انجام شادی ہوگا، موت نہیں؟ اعداد و واقعات دونوں چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ مسئلہ عشق نہیں، سماجی سوچ کا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

15 minutes ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

1 hour ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

2 hours ago