نئی دہلی : الیکشن کمیشن میں اختلافات اور ایس آئی آر کو لے کر اپوزیشن نے محاذ کھول دیا ہے۔ آج ملک بھر میں کانگریس الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ اس سے پہلے جمعرات کو کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔اس کے ساتھ ہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ابھجیت دیپکے نے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر استعفیٰ نہیں دیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔ وہیں بی جے پی نے کانگریس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی شکست سے بوکھلائی ہوئی ہے اور اسے سیاسی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔
گیانیش کمار کا پروگرام ملتوی
اس دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا میرٹھ میں ایک پروگرام طے تھا، جسے فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ 21 ستمبر کو ہی کر لیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے معاملے پر تازہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب 23 ستمبر کو ’انڈین ایکسپریس‘ اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران تین میں سے دو الیکشن کمشنروں نے کئی معاملات پر اعتراضات درج کرائے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں نے کیا اقدامات کیے؟
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں بہار کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج آر جے ڈی کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن سی ای سی کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔ وہیں بمبئی ہائی کورٹ کی کولہاپور بنچ میں بھی عرضی دائر کی گئی ہے۔ پرتمیش گوپال گوانکر، گورو سوریہ کانت نکھرےکر، آدیش ششی کانت بھٹکر اور سمیتالی نیلیش نارویکر نے یہ عرضی دائر کی ہے۔عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے دو کمشنروں نے مختلف فیصلوں اور طریقہ کار کو لے کر 14 مرتبہ اعتراضات درج کرائے تھے۔ عرضی گزاروں نے ووٹر رجسٹریشن، ووٹروں کے نام حذف کرنے، ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس، ای آر او کے طریقہ کار اور ای سی آئی نیٹ نظام سے متعلق کئی معاملات اٹھائے ہیں۔وہیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سپریم کورٹ کی توہین کا مقدمہ چلانے کی اجازت کے لیے وکیل برجیش سنگھ نے اٹارنی جنرل کو خط لکھ کر اجازت طلب کی ہے۔اس کے بعد سیاسی ہنگامہ شروع ہوگیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یا تو وہ استعفیٰ دیں یا پھر انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ سے معاملے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
Gyanesh Chor Kumar is rogue agent who acted without consent of other 2 ECs. Disenfranchising genuine voters is not official duties. He cannot enjoy immunity. He needs to be prosecuted. Simple. pic.twitter.com/YKFp8OgV5h
— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) September 24, 2026
بی جے پی نے کیا کہا؟
اپوزیشن کے الزامات پر بی جے پی نے جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے لیے گئے ہیں۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ فیصلے اکثریت کی بنیاد پر کیے گئے ہوں۔بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا کہ شاید راہل گاندھی کو اب بھی یہ احساس نہیں ہے کہ کانگریس مغربی بنگال اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار سے باہر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…