قومی

EPFO 3.0 Launched: اب نوکری بدلتے ہی خود بخود منتقل ہوگی پی ایف کی رقم، حکومت نےتبدیل کیے تین بڑے قواعد

اگر آپ بھی پی ایف کی رقم نکالنے، منتقل کرنے یا پاس بک چیک کرنے کے لیے ای پی ایف او کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر پریشان ہو چکے ہیں تو اب آپ کی یہ مشکل ختم ہونے والی ہے۔ حکومت نے ای پی ایف او 3.0 کے تحت “سائٹس” منصوبہ مکمل طور پر نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے تمام پی ایف کھاتہ داروں کا ڈیٹا ایک مرکزی قومی ڈیٹا بیس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر محنت و روزگار منسکھ مانڈویہ کے مطابق اس تبدیلی سے ای پی ایف او کی خدمات پہلے سے زیادہ تیز، آسان اور شفاف ہو جائیں گی۔

نوکری بدلتے ہی پی ایف خود بخود منتقل ہوگا

اب تک نوکری تبدیل کرنے پر پرانے پی ایف اکاؤنٹ کی رقم نئے اکاؤنٹ میں منتقل کرانے کے لیے طویل کاغذی کارروائی اور مختلف کمپنیوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ لیکن اب اگر آپ کا یونیورسل اکاؤنٹ نمبر آدھار سے منسلک ہے تو نوکری بدلتے ہی پی ایف کی رقم خودکار طریقے سے نئے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔ اس کے لیے کسی اضافی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

پانچ لاکھ روپے تک کا کلیم چند منٹ میں منظور

نئے نظام کے تحت کلیم مسترد ہونے کے امکانات بھی بہت کم ہو جائیں گے کیونکہ سسٹم درخواست جمع ہونے سے پہلے ہی غلطیوں کی نشاندہی کر دے گا۔ مکمل طور پر کے وائی سی اپ ڈیٹ اکاؤنٹس کے لیے اب پانچ لاکھ روپے تک کے ایڈوانس پی ایف کلیم کا تصفیہ خودکار نظام کے ذریعے چند منٹوں میں ہو جائے گا، جبکہ پہلے اس کی حد صرف ایک لاکھ روپے تھی۔

اس کے علاوہ اب پی ایف کے حتمی تصفیے کے وقت ادائیگی کی منظوری کی تاریخ تک مکمل سود بھی ملے گا، جس سے ملازمین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہوگا۔ حکومت 15 جولائی تک مالی سال 2025-26 کے لیے 8.25 فیصد شرح سود کے مطابق تقریباً 34 کروڑ کھاتوں میں ایک لاکھ چوالیس ہزار کروڑ روپے سود کی رقم منتقل کرے گی، جو فوری طور پر پاس بک میں نظر آئے گی۔

پی ایف نکالنے کے قواعد بھی آسان

پہلے پی ایف سے جزوی رقم نکالنے کے لیے تیرہ مختلف اور پیچیدہ قواعد تھے، لیکن اب حکومت نے انہیں صرف تین آسان زمروں میں تقسیم کر دیا ہے، جن میں ضروری اخراجات، گھر سے متعلق ضروریات اور خصوصی حالات شامل ہیں۔ نئے قواعد کے مطابق کھاتہ دار اپنے مجموعی پی ایف بیلنس کا 75 فیصد تک نکال سکتے ہیں۔

ای پی ایف او ایمنسٹی اسکیم 2026 کیا ہے؟

ای پی ایف او نے ان نجی اداروں اور ٹرسٹوں کے لیے “ایمنسٹی اسکیم 2026” بھی شروع کی ہے، جنہیں محکمہ انکم ٹیکس سے منظوری تو حاصل ہے، لیکن وہ ای پی ایف قانون کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ اسکیم 29 جون 2026 سے آئندہ چھ ماہ کے لیے نافذ رہے گی، تاکہ ایسے ادارے اپنی قانونی حیثیت درست کر سکیں اور مستقبل میں کسی بھی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Jantar Mantar protests: جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران سی آئی ایس ایف جوان پر چاقو سے حملہ، دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…

11 minutes ago

India-Switzerland Partnership: بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کو نئی رفتار، مائیگریشن سے ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس تک 5 اہم معاہدے طے

سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…

60 minutes ago

Nobel Prize in Medicine 2026: کارل ڈائسروتھ، پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل مشترکہ طور پر طب کے نوبل اعزاز سے سرفراز

2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…

2 hours ago