قومی

Acharya Pramod Krishnam praised Rajeshwar Singh’s vision: خواتین کو بااختیار بنانا ہی بھارت کی ترقی کی بنیاد، آچاریہ پرمود کرشنم نے راجیشور سنگھ کے ویژن کو جم کر سراہا

نئی دہلی: آچاریہ پرمود کرشنم نے راجیشور سنگھ کے ایک وژنری ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کی خواتین بااختیاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھارت کی نشاۃ ثانیہ قرار دیا۔ اپنے جذباتی پیغام میں آچاریہ پرمود نے لکھا کہ آپ کا وژن امید اور تبدیلی کا چراغ ہے۔ آپ بیٹیوں کو بااختیار بنا کر طاقت، وقار اور ترقی کے وہ بیج بو رہے ہیں جو آنے والی نسلوں میں پھلیں گے۔ تاریخ آپ کے کام کو محض اصلاح نہیں بلکہ ایک طاقتور، باشعور بھارت کی نشاۃ ثانیہ کے طور پر یاد رکھے گی۔ جے شری کلکی۔

راجیشور سنگھ کے ٹوئیٹ پر ردعمل

یہ پیغام راجیشور سنگھ کے اس ٹوئٹ کے ردعمل میں آیا جس میں انہوں نے سوالیہ انداز میں اپنی مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کی وضاحت کی کہ میں تارا شکتی کینڈرا کیوں کھول رہا ہوں؟ لڑکیوں کے اسکولوں میں ڈیجیٹل لائبریریاں، ہر گاؤں میں لڑکیوں کا اسپورٹس کلب، دور دراز کے لطیف نگر گاؤں میں گرلز ڈگری کالج کی شروعات، آر بی ایس سینٹروں پر ڈیجیٹل تربیت کی فراہمی اور خواتین کو بااختیار بنانے پر زور کیوں دے رہا ہوں؟ کیونکہ بیٹیوں کو بااختیار بنانا صرف سماجی اصلاح نہیں، بلکہ قوم کی تعمیر ہے۔

خواتین کی بااختیاری: بھارت کی ترقی کا ستون

راجیشور سنگھ نے اپنے پیغام میں خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ بنیادی فوائد کو اجاگر کیا:

معاشی ترقی کا محرک

اگر خواتین کو بااختیار بنایا جائے تو بھارت کی معیشت میں 2025 تک 770 بلین ڈالر کا اضافہ ممکن ہے (ماخذ: McKinsey MGI)۔ اس وقت صرف 23 فیصد خواتین رسمی شعبے میں کام کرتی ہیں (ورلڈ بینک 2024)۔

تعلیم و صحت میں بہتری

ایک تعلیم یافتہ خاتون اپنی اولاد کو بھی تعلیم دینے کا دو گنا امکان رکھتی ہے (UNESCO)۔ بھارت میں خواتین کی شرح خواندگی 70.3 فیصد جبکہ مردوں کی 84.7 فیصد ہے۔

غربت کے خاتمے کی کنجی

خواتین اپنی آمدنی کا 90 فیصد خاندان پر خرچ کرتی ہیں (UN Women India)، جس سے گھر، برادری اور سماج ترقی کرتا ہے۔

سیاسی و حکومتی مضبوطی

لوک سبھا میں خواتین کی نمائندگی محض 15 فیصد ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین لیڈر صحت، تعلیم اور دیہی ترقی میں زیادہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔

محفوظ، مستحکم اور مضبوط بھارت

جہاں صنفی برابری زیادہ ہے، وہاں جرائم کی شرح کم، تعلیم کی سطح بلند اور سماجی ہم آہنگی مضبوط ہوتی ہے۔

ایک مربوط کوشش

آچاریہ پرمود اور راجیشور سنگھ کے بیانات اس بات کی گواہی ہیں کہ بھارت میں خواتین کی ترقی کو محض رفاہی نکتہ نظر سے نہیں، بلکہ قومی تعمیر کے بنیادی جزو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا مشترکہ پیغام ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنی خواتین کو بلند نہ کرے۔ یہ نظریہ نہ صرف سیاسی اور سماجی سطح پر بلکہ تعلیمی اداروں، دیہی علاقوں اور پالیسی سازی کے ہر گوشے میں عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔ راجیشور سنگھ کے زمینی اقدامات اور آچاریہ پرمود کی فکری حمایت ایک نئے بھارت کی تشکیل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

2 hours ago

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

3 hours ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

4 hours ago