انتخابی کمیشن آف انڈیا کے اندر فیصلوں سے متعلق مبینہ اختلافات کی ایک رپورٹ سامنے آنے کے بعد 2 نام خاص طور پر زیرِ بحث ہیں—سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی۔ دونوں سینئر آئی اے ایس افسران ہیں اور اس وقت الیکشن کمشنر کی حیثیت سے ملک کے انتخابی عمل سے متعلق اہم فیصلوں کا حصہ ہیں۔ دراصل 23 ستمبر کو ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سندھو اور جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ انتخابی کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے یا بحال کرنے، اپیلوں اور انتخابی ڈیٹا بیس تک رسائی سے متعلق معاملات پر تھے۔ رپورٹ کے مطابق بعض معاملات میں دونوں افسران نے یہ بھی اعتراض کیا کہ فیصلے ان کی اطلاع یا منظوری کے بغیر کیے گئے۔ تاہم انتخابی کمیشن کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد کہا گیا کہ کمیشن کے تمام فیصلے 3 رکنی کمیشن کے غور و خوض اور منظوری کے عمل کے تحت کیے جاتے ہیں اور اندرونی سطح پر مختلف آرا سامنے آنا ادارہ جاتی عمل کا حصہ ہے۔
کون ہیں سکھبیر سنگھ سندھو؟
سکھبیر سنگھ سندھو 1988 بیچ کے اتراکھنڈ کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں۔ انہوں نے 15 مارچ 2024 کو الیکشن کمشنر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ اس سے قبل وہ جولائی 2021 سے جنوری 2024 تک اتراکھنڈ کے چیف سیکریٹری رہے۔ سندھو کا انتظامی تجربہ کافی وسیع ہے۔ وہ تقریباً 2 سال تک نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے چیئرمین بھی رہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت میں اعلیٰ تعلیم کے محکمے میں ایڈیشنل سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالی۔ وہ اتراکھنڈ، پنجاب اور اتر پردیش حکومتوں میں بھی مختلف اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ میں بھی ان کا طویل تجربہ رہا ہے۔ وہ ہریدوار، گوتم بدھ نگر یعنی نوئیڈا اور ادھم سنگھ نگر کے ضلع مجسٹریٹ رہ چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ انتظامی خدمات میں آنے سے پہلے سندھو نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے پاس ایم بی بی ایس کی ڈگری ہے اور انہوں نے تاریخ میں ماسٹرز بھی کیا ہے۔
اب وویک جوشی کو جانئے
دوسرا نام وویک جوشی کا ہے۔ وہ 1989 بیچ کے ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں اور 19 فروری 2025 کو الیکشن کمشنر بنے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق انہیں بھارتی انتظامی خدمات میں 35 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن میں شامل ہونے سے قبل جوشی ہریانہ کے چیف سیکریٹری تھے۔ اس سے پہلے وہ مرکزی حکومت میں محکمہ پرسونل اینڈ ٹریننگ اور محکمہ مالیاتی خدمات کے سیکریٹری جیسے اہم عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ بھارت کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔ ہریانہ میں انہوں نے جند، حصار اور پنچکولہ کے ڈپٹی کمشنر اور امبالہ کے ڈویژنل کمشنر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔تعلیمی اعتبار سے جوشی نے آئی آئی ٹی روڑکی سے مکینیکل انجینئرنگ کی۔ اس کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل بزنس میں ماسٹرز اور جنیوا کے گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ سے انٹرنیشنل اکنامکس میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی۔
آخر دونوں الیکشن کمشنر کیوں زیرِ بحث ہیں؟
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی 23 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران سندھو اور جوشی نے کمیشن کے بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 4 اعتراضات ایک ہی دن درج کیے گئے تھے۔ ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا بیس تک رسائی کو مرکزی سطح پر محدود کیے جانے کے خدشات، ووٹر فہرست سے نام حذف اور بحال کرنے کے معاملات اور مغربی بنگال میں بعض اپیلوں سے متعلق سوالات شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے بعض اقدامات کو ’غیر مجاز‘ اور ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اعتراض درج کیا۔ دوسری جانب انتخابی کمیشن نے اختلافِ رائے کو ادارہ جاتی فیصلہ سازی کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس طرح فی الحال معاملہ انتخابی کمیشن کے اندر درج کیے گئے ان اعتراضات اور ان پر کمیشن کے مؤقف کے گرد گھوم رہا ہے۔ ان اعتراضات کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے متعلقہ دستاویزات، کمیشن کا جواب اور آئینی و قانونی طریقہ کار دیکھنا اہم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…
گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کو بیک وقت تحریری…
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…