نئی دہلی، 8 جون: دہلی کے پانچ لوک سبھا حلقوں میں واقع 92 کالونیوں اور درجنوں قدیم دیہاتوں پر سال 2010 میں نافذ کیے گئے او-زون (O-Zone) کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس زون بندی کے باعث تقریباً 15 لاکھ سے زائد افراد مختلف ترقیاتی اور انتظامی پابندیوں سے متاثر ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں بے چینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے مکین طویل عرصے سے اس مسئلے کے حل اور او-زون سے نجات کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان رام ویر سنگھ بدھوڑی نے آج اپنے رہائش گاہ پر شمال مشرقی دہلی سے رکن پارلیمان اور بی جے پی کے سینئر لیڈر منوج تیواری کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی۔ اجلاس میں او-زون کے باعث پیدا ہونے والے مسائل، عوامی مشکلات اور اس کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں لیڈروں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ 2010 میں مرکز اور اُس وقت کی دہلی کانگریس حکومت کی جانب سے نافذ کردہ او-زون پالیسی کے باعث درجنوں قدیم دیہات اور متعدد رہائشی کالونیاں ترقیاتی عمل سے محروم ہو گئی ہیں۔ مقامی لوگوں کو تعمیراتی اجازت ناموں، جائیداد کی خرید و فروخت، بنیادی شہری سہولیات اور دیگر ضروری کاموں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رام ویر سنگھ بدھوڑی نے کہا کہ لاکھوں متاثرہ شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا گیا ہے۔ جلد ہی ان سے ملاقات کر کے او-زون سے متعلق تمام حقائق اور زمینی صورتحال کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں کی حقیقی صورتحال حکومت کے سامنے رکھی جائے تاکہ ان کالونیوں اور دیہاتوں کو او-زون سے باہر نکالنے کے لیے مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔ بدھوڑی نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے عوامی مفاد میں مثبت اقدامات کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر او-زون سے متعلق پابندیوں میں نرمی یا ان کا خاتمہ کیا جاتا ہے تو اس سے لاکھوں شہریوں کو بڑی راحت ملے گی اور متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو نئی رفتار حاصل ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بہار کے ضلع ویشالی میں راگھوپور کے قریب کشتی بے قابو ہو کر الٹ گئی۔…
کیشوپور، جنک پوری، روہنی، سونیا وہار اور منگول پوری سمیت کئی علاقوں میں خفیہ کیمرے…
دہلی پولیس نے جنتر منتر کے علاقے میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں…
تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت اہم شعبوں میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے…
وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک…
رشی سونک نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، آج نئی…