نئی دہلی : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سماج وادی پارٹی کے لیڈراعظم خان سے وابستہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی، رامپور کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں بڑی کارروائی کی ہے۔ ای ڈی کے لکھنؤ زونل دفتر کی ٹیموں نے منگل کو رامپور، سہارنپور اور دہلی میں 10 مختلف مقامات پر بیک وقت تلاشی مہم چلائی۔ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA)، 2002 کی دفعہ 17 کے تحت کی گئی ہے۔ای ڈی کی یہ کارروائی سرکاری ٹھیکوں سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری رقم کے غلط استعمال کی تحقیقات کا حصہ ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کو شبہ ہے کہ بعض نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے سرکاری فنڈز کو مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور بعد میں اس رقم کا استعمال یونیورسٹی یا ٹرسٹ کے نام پر اثاثے بنانے کے لیے کیا گیا۔
سرکاری فنڈز کو دوسری طرف منتقل کرنے کا الزام
تحقیقات کے دوران ای ڈی کو مبینہ طور پر ایسے مالی لین دین کی معلومات ملی ہیں جن میں سرکاری کام حاصل کرنے والے ٹھیکیداروں اور مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے درمیان رقم کی منتقلی ہوئی۔ الزام ہے کہ سرکاری کاموں سے فائدہ حاصل کرنے والے کچھ ٹھیکیداروں نے ٹرسٹ اور یونیورسٹی میں عطیات یا تعمیراتی کاموں کے ذریعے رقم لگائی۔ای ڈی کی جانب سے کی جانے والی تلاشی کا مقصد مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقم کے شواہد، مالی ریکارڈ، اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل ثبوت اکٹھا کرنا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ سرکاری فنڈز کہاں سے حاصل ہوئے، انہیں کس طریقے سے منتقل کیا گیا اور بعد میں ان کا استعمال کہاں کیا گیا۔چھاپہ ماری کے دوران مختلف مقامات پر موجود مالی دستاویزات اور دیگر ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے۔ ایجنسی کو امید ہے کہ ان شواہد سے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی کڑیاں جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جوہر یونیورسٹی کی عمارتوں کا معاملہ کیا ہے؟
محمد علی جوہر یونیورسٹی پہلے بھی مختلف تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہی ہے۔ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو مبینہ طور پر مقررہ تعمیراتی معیار کے مطابق نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ کو انہیں منہدم کرنے کا نوٹس جاری کیا تھا۔15 جولائی کو اتھارٹی کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ میں تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ انتظامیہ نے کارروائی کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کی بات کہی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ تمام عمارتیں نقشے منظور کرانے کے بعد تعمیر کی گئی تھیں۔انتظامیہ نے یہ دلیل بھی دی کہ جب یونیورسٹی کی تعمیر ہوئی تھی، اس وقت یہ علاقہ رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی حدود میں شامل نہیں تھا۔ اب ای ڈی کی تازہ کارروائی کے بعد جوہر یونیورسٹی اور اس سے وابستہ ٹرسٹ کے مالی معاملات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
شریئس ایئر کی کپتانی میں ٹیم انڈیا پاکستان کے خلاف اپنے سابقہ ریکارڈ کو برقرار…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارتی کرکٹ ٹیم نے شاندار کارکردگی کا…
فلائی دبئی کی پرواز میں بڑے فضائی حادثے کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کرنے…
جسٹس سوریہ کانت نے اپنے نام سے منسوب ایک الگ اینٹی ریزرویشن بیان کی تردید…
اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (اے جی ای ایل) نے جمعرات کو بتایا کہ اس نے…
ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے…